متحدہ عرب امارات اور فلپائن کے درمیان مالیاتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ابوظہبی/منیلا، 14 اپریل، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک اور فلپائن کے مرکزی بینک بنکو سینٹرل نگ فلپیناس کے درمیان ایک ورچوئل تقریب کے دوران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد مالیاتی ڈھانچے کی ترقی، اقتصادی تعاون کو فروغ دینا اور دوطرفہ تجارت کو مستحکم بنانا ہے۔

مفاہمتی یادداشت پر متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بلعمہ اور فلپائن کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ایلی ایم ریمولونا جونیئر نے دستخط کیے۔

معاہدے کے تحت دونوں ادارے فوری ادائیگی کے نظاموں کے انضمام کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کو سہل بنانے کے لیے کام کریں گے، جبکہ مستقبل میں قومی کارڈ سوئچز اور مالیاتی پیغام رسانی کے نظاموں کو باہم مربوط کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد لین دین کے عمل اور تصفیے کو تیز اور مؤثر بنانا، نظاموں کے باہمی انضمام کو فروغ دینا اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ اس میں افراد اور اداروں کے لیے مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کے پلیٹ فارمز کی تیاری سے متعلق مہارت کے تبادلے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

مفاہمتی یادداشت میں فن ٹیک کے اہم شعبوں، بشمول اوپن فنانس اور ڈیجیٹل اثاثہ جات میں تعاون کے ساتھ ساتھ اسلامی بینکاری اور مالیاتی صنعت کی ترقی میں اشتراک عمل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ اسٹریٹجک معاہدہ متحدہ عرب امارات اور فلپائن کے درمیان مالیاتی جدت کو فروغ دینے اور محفوظ و مؤثر ادائیگی کے حل فراہم کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے گورنر نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مربوط اور جدید مالیاتی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو جدید ادائیگی ٹیکنالوجی کے استعمال اور مہارت کے تبادلے کے ذریعے پائیدار اور جدت پر مبنی اقتصادی ترقی کی بنیاد فراہم کرے گا۔

فلپائن کے مرکزی بینک کے گورنر نے کہا کہ یہ شراکت داری ادائیگیوں کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور سرحد پار لین دین کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم فلپائنی شہریوں، خصوصاً بیرون ملک مقیم کارکنوں کے لیے یہ پیش رفت ترسیلات زر کے بہتر ذرائع اور ان کے اہل خانہ کے لیے زیادہ مؤثر مالیاتی خدمات کی فراہمی کا باعث بنے گی، جبکہ اسلامی بینکاری اور مالیات کے شعبے میں تعاون کے بھی وسیع مواقع موجود ہیں۔