ابوظہبی، 15 اپریل، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ آذربائیجان کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، جسے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ دوطرفہ تجارتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرے گا، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبہ جات کے نئے مواقع پیدا کرے گا، جبکہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل خطے میں اماراتی کاروباری برادری کے لیے وسیع امکانات کی راہ ہموار کرے گا۔
معاہدے کے تحت بیشتر اشیا اور خدمات پر محصولات میں کمی یا خاتمے سے دونوں ممالک کے برآمد کنندگان کو منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی اور ان کے عالمی کاروباری دائرہ کار میں وسعت آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے مابین تعاون کو فروغ ملے گا اور کاروباری افراد، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کو تقویت حاصل ہوگی۔
یہ آذربائیجان کا پہلا تجارتی معاہدہ ہے جس میں خدمات کے شعبے کو باقاعدہ شامل کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مالیات، مشاورتی خدمات، تعمیرات اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں نمایاں مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا کہ یو اے ای–آذربائیجان سیپا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک انقلابی پیش رفت ہے، جو تجارت میں اضافے، نئی سرمایہ کاری کے مواقع اور خاص طور پر لاجسٹکس، قابلِ تجدید توانائی اور جدید صنعتوں میں نجی شعبے کے اشتراک کو فروغ دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان شمال–جنوب تجارتی راہداری میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور دونوں ممالک کے اقتصادی وژنز کا امتزاج تیزی سے بدلتی عالمی معیشت میں پائیدار ترقی اور استحکام کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
متحدہ عرب امارات، آذربائیجان کا سب سے بڑا عرب تجارتی شراکت دار ہے، جو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ساتھ اس کی مجموعی تجارت کا 40 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ ایک ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کے ساتھ یو اے ای آذربائیجان میں نمایاں عرب سرمایہ کار بھی ہے، جبکہ مزید اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت میں بھی مضبوط اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو باہمی تعلقات کی مضبوطی کا مظہر ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران غیر تیل تجارت میں 31.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 2025 میں بڑھ کر 2.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
یہ معاہدہ یو اے ای کے عالمی تجارتی پروگرام میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ امارات کے اقتصادی تنوع کے جامع وژن سے مکمل ہم آہنگی رکھتا ہے۔