بیجنگ، 15 اپریل، 2026 (وام)--جنرل ویمنز یونین کے ایک وفد نے بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے زیر اہتمام اور وزارتِ خارجہ تجارت کے تعاون سے منعقدہ "یو اے ای–چین بزنس پروموشن کانفرنس" میں شرکت کی۔
"ویژن سے ویلیو تک" کے عنوان سے منعقدہ اس کانفرنس میں متحدہ عرب امارات اور چین کے اعلیٰ حکام، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی، جہاں سرمایہ کاری، مالیات، توانائی و پائیداری، صنعت، زراعت و غذائی تحفظ، لاجسٹکس و ٹیکنالوجی، ہوا بازی و تجارت کے ساتھ ساتھ ریٹیل، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔
یہ کانفرنس مکالمے اور علم کے تبادلے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بھی ثابت ہوئی، جس کا مقصد شراکت داریوں کو فروغ دینا اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینا تھا۔
جنرل ویمنز یونین کی سیکرٹری جنرل نورہ خلیفہ السویدی نے کہا کہ یہ تقریب یو اے ای اور چین کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی عکاس ہے، جہاں خواتین کو بااختیار بنانے کا شعبہ دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات کا اہم ستون بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یونین کی جانب سے شروع کی گئی کاوشیں خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے اور ترقی میں ان کے کردار کو مستحکم بنانے پر مرکوز ہیں، جو مادرِ وطن، عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک کے وژن کے مطابق ہیں۔
السویدی نے یو اے ای–چین بزنس ویمن کونسل کو دوطرفہ تعلقات کی پختگی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم خواتین کاروباری شخصیات کے عالمی معیشت میں کردار کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس موقع پر بیجنگ میں اماراتی سفارت خانے کی ڈپٹی چیف آف مشن، کونسلر آمنہ الحمادی نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقیاتی اہداف پر مبنی ہیں، جبکہ خواتین کو بااختیار بنانا مستقبل کے تعاون کا اہم جزو ہے۔
جنرل ویمنز یونین میں اسٹریٹجک و ترقیاتی امور کی سربراہ غالیہ علی المنعی کے مطابق یہ شراکت داری جدت اور علم پر مبنی اقتصادی تعاون کی ایک جدید مثال ہے، جو سرمایہ کاری کے مواقع اور کاروباری وسعت میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
کانفرنس کے دوران یو اے ای–چین بزنس ویمن کونسل کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں 100 سے زائد اداروں نے شرکت کی، جبکہ یونین اور چینی اقتصادی اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔
اس موقع پر بیرونِ ملک اماراتی بزنس ویمن کونسلز کے قیام اور مؤثر انتظام کے لیے ایک گورننس گائیڈ بھی جاری کی گئی، جو عالمی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ ہے۔
چین اس اقدام کا پہلا بین الاقوامی مرکز ہے، جہاں نومبر 2025 میں یو اے ای–چین بزنس ویمن کونسل کے قیام کے بعد سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے اور اقتصادی شراکت داری کو مستحکم بنانے کی راہ ہموار کی گئی۔
یہ اقدام "مادرِ ملت کے 50:50 وژن" کے مطابق ہے، جس کا مقصد اماراتی خواتین کے عالمی کردار کو مضبوط بنانا اور بین الاقوامی اقتصادی ترقی میں ان کے مؤثر کردار کو فروغ دینا ہے۔