یو اے ای کا جوہری تحفظ پر عالمی عزم، آئی اے ای اے میں دسویں قومی رپورٹ پیش

ویانا، 16 اپریل، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات نے جوہری تحفظ کے کنونشن کے رکن ممالک کے جائزہ اجلاس کے دوران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں اپنی دسویں قومی رپورٹ پیش کی۔

اماراتی وفد نے کنونشن کے تحت جائزہ عمل کے حصے کے طور پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے جوہری تحفظ، شفافیت اور بین الاقوامی تعاون کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

رپورٹ میں کنونشن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اختیار کیے گئے قانونی، ریگولیٹری اور آپریشنل اقدامات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا، جبکہ گزشتہ جائزہ دور کے بعد ہونے والی نمایاں پیش رفت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ان میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے تمام چار یونٹس کا مکمل تجارتی آپریشن میں داخل ہونا ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں امارات کے مضبوط اور مسلسل ترقی پذیر ریگولیٹری نظام کو بھی نمایاں کیا گیا۔ اس دوران فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن نے اہم قواعد و ضوابط کو اپ ڈیٹ کیا، جن میں جوہری تنصیبات کے جسمانی تحفظ اور سائبر سیکیورٹی کے تقاضوں کو مزید سخت بنانا اور آپریٹنگ عملے کی سرٹیفکیشن کے نظام کو مضبوط کرنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ تابکار مواد کی محفوظ ترسیل کے لیے نئی ریگولیٹری ہدایات جاری کی گئیں اور 2025 سے 2029 تک کے لیے ایک جامع ریگولیٹری ماسٹر پلان بھی متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

نواح انرجی کمپنی نے آپریشنل کارکردگی میں بہتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے براکہ پلانٹ کی محفوظ دیکھ بھال اور ایندھن کی تبدیلی کے مراحل کو مؤثر انداز میں مکمل کیا۔ ادارے نے آزادانہ جائزوں اور عملے کی شمولیت کے ذریعے جوہری تحفظ کے کلچر کو بھی مزید مضبوط بنایا، جبکہ تربیتی پروگراموں کے ذریعے قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو فروغ دیا۔

امارات نے اپنی رپورٹ میں ریگولیٹری ڈھانچے، انسانی وسائل کی ترقی اور قومی صلاحیتوں میں پیش رفت سمیت اہم کامیابیوں کو اجاگر کیا، جبکہ آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات اور ویانا ڈیکلریشن کے اصولوں سے ہم آہنگی کو بھی نمایاں کیا۔

امارات نے مسلسل بہتری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ہنگامی تیاری کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، گزشتہ سفارشات پر عمل درآمد اور تحقیق و جدت کے فروغ کے ذریعے طویل مدتی جوہری تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن کے ڈائریکٹر جنرل کرسٹر وکٹرسن نے کہا کہ یہ رپورٹ امارات کے جوہری تحفظ کے اعلیٰ معیار کے لیے مسلسل عزم اور مضبوط ریگولیٹری نظام کی عکاس ہے، جبکہ براکہ پلانٹ کے محفوظ آپریشن میں پیش رفت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

واضح رہے کہ جوہری تحفظ کا کنونشن ایک بین الاقوامی قانونی معاہدہ ہے، جس کا مقصد قومی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے دنیا بھر میں جوہری بجلی گھروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ رکن ممالک اس کے تحت باقاعدگی سے اپنی قومی رپورٹس پیش کرتے ہیں تاکہ شفافیت اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔

متحدہ عرب امارات 2009 سے اس کنونشن کا رکن ہے اور اس کے جائزہ عمل میں فعال کردار ادا کرتا آ رہا ہے، جو عالمی جوہری برادری میں اس کے ذمہ دار اور پُرعزم کردار کی عکاسی کرتا ہے۔