واشنگٹن، 16 اپریل، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے واشنگٹن میں منعقدہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک گروپ کے 2026 کے اسپرنگ اجلاسوں میں اپنی شرکت جاری رکھی، جہاں جی 20، جی 24 اور برکس کے اجلاس بھی 13 سے 18 اپریل تک منعقد ہو رہے ہیں۔
ان اجلاسوں میں مرکزی بینکوں کے گورنرز، وزرائے خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بالعمٰی نے اماراتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے مختلف وزارتی اجلاسوں اور اعلیٰ سطحی مکالماتی نشستوں میں شرکت کی۔ وفد میں مالیاتی پالیسی و استحکام کے اسسٹنٹ گورنر ابراہیم عبید الزعابی، بینکاری و انشورنس نگرانی کے اسسٹنٹ گورنر احمد سعید القمزی، بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ محمد المرزوقی سمیت متعدد اعلیٰ حکام شامل تھے۔
گورنر بالعمٰی نے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان (میناپ) خطے کے آئی ایم ایف کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس میں یو اے ای کا کلیدی خطاب بھی پیش کیا، جس میں عالمی معیشت کی صورتحال، جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور ان کے علاقائی و عالمی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے اہم شعبوں کے استحکام کو یقینی بنانے میں یو اے ای کے فعال کردار کو اجاگر کیا۔
انہوں نے مالیاتی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے یو اے ای کی کوششوں کا اعادہ کرتے ہوئے مارچ میں متعارف کرائے گئے "پروایکٹو فنانشل انسٹی ٹیوشن ریزیلینس پیکج" کا ذکر کیا، جو خطے کے کسی بھی مرکزی بینک کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے اور اس نے مالیاتی شعبے کی پائیداری کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
گورنر بالعمٰی نے جی-24 کے اجلاسوں میں بھی اماراتی وفد کی قیادت کی، جبکہ اجلاسوں کے موقع پر انہوں نے اور ان کے وفد نے مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کے گورنرز اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔
ان ملاقاتوں میں ایسٹونیا کے مرکزی بینک کے گورنر مادس مُلر اور جارجیا کے نیشنل بینک کی گورنر ناتیا تورناوا سے علیحدہ ملاقاتیں شامل تھیں، جن میں مالیاتی اور بینکاری تعاون کو فروغ دینے، آئندہ ترجیحات پر تبادلہ خیال اور مالیاتی ڈھانچے کی مزید ترقی کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
یہ مسلسل شرکت عالمی معیشت اور مالیاتی استحکام کے مستقبل سے متعلق بین الاقوامی مکالمے میں مرکزی بینک کے فعال کردار کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ یو اے ای کو علاقائی و عالمی سطح پر اقتصادی اور مالیاتی استحکام کے فروغ میں ایک مؤثر شراکت دار کے طور پر اجاگر کرتی ہے۔