سیمیفور عالمی اقتصادی سمٹ: یو اے ای کا استحکام اور امریکا کے ساتھ مضبوط شراکت داری پر زور

واشنگٹن، 16 اپریل، 2026 (وام)-- وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے کہا ہے کہ ایران کے حالیہ غیر معمولی اور بلااشتعال دہشت گردانہ حملوں کے باوجود متحدہ عرب امارات نے غیر معمولی استحکام اور مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے واشنگٹن میں سیمیفور ورلڈ اکانومی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے اماراتی فضائی دفاعی نظام کی مؤثریت اور شہریوں و مقیم افراد کے عزم و حوصلے کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اماراتی معاشرہ نہ صرف خوشحالی بلکہ تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کے عزم پر قائم ہے، جو قیادت کی بصیرت اور قومی جذبے کی عکاسی ہے۔

ریم الہاشمی نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی آزادی کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس گزرگاہ میں کسی ایک فریق کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی راستہ ہے جو پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تقریباً پانچواں حصہ ترسیل کرنے والی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے کھاد، مائع قدرتی گیس، تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کو دور کیا جائے اور عالمی تجارتی راستوں اور اہم اقتصادی تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ریم الہاشمی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور حالیہ علاقائی کشیدگی نے اس شراکت داری کو مزید مستحکم کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امارات نے امریکی معیشت میں تقریباً ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور آئندہ دس برسوں میں مزید 1.4 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے خلائی تحقیق کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو دوطرفہ تعلقات کی جدت اور وسعت کی ایک نمایاں مثال قرار دیا۔

یہ بیان ریم الہاشمی کے دورۂ واشنگٹن کے دوران سامنے آیا، جہاں وہ امریکی کانگریس کے ارکان، پالیسی ماہرین اور انسانی ہمدردی کے اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گی۔

اس موقع پر وہ امارات اور امریکہ کے تعلقات کی گہرائی کو اجاگر کریں گی اور استحکام کے فروغ، پائیدار اقتصادی ترقی اور مشترکہ عالمی ترجیحات سے نمٹنے کے لیے تعاون کی اہمیت پر زور دیں گی۔