ابوظہبی، 16 اپریل، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات کی اسپیس ایجنسی نے کولوراڈو اسپرنگز میں 13 سے 16 اپریل تک منعقدہ 41ویں اسپیس سمپوزیم میں شرکت کی، جو بین الاقوامی اسٹریٹجک شراکت داریوں کے فروغ اور قومی خلائی حکمتِ عملی 2031 کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
وزیر کھیل اور چیئرمین یو اے ای اسپیس ایجنسی ڈاکٹر احمد بالہول الفلاسی کی قیادت میں وفد نے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور خلائی شعبے کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ شرکت عالمی خلائی معیشت کی تشکیل میں یو اے ای کے فعال اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہونے کے عزم کی عکاس ہے، جس میں اقتصادی فوائد میں اضافہ اور قومی مسابقت کو فروغ دینا شامل ہے۔
تقریب کے دوران وفد نے اہم کامیابیوں کو اجاگر کیا، جن میں نمایاں طور پر اماراتی مشن برائے مریخ "ہوپ پروب" کی مدت کو 2028 تک توسیع دینا شامل ہے۔ اس مشن نے 10 ٹیرا بائٹس سے زائد سائنسی ڈیٹا فراہم کیا، جس کے ذریعے مریخ کے ماحول کی پہلی جامع تصویر سامنے آئی۔
یو اے ای ٹیم نے سیارچوں کے بیلٹ کے لیے اماراتی مشن اور خلائی معیشت کو فروغ دینے کے مختلف منصوبوں پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا، جس سے ملک کی خلائی جدت اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مرکز کے طور پر حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔
سمپوزیم کے موقع پر اماراتی وفد نے ناسا، کوریا ایرو اسپیس ایڈمنسٹریشن اور فرانس کے نیشنل سینٹر فار اسپیس اسٹڈیز سمیت بین الاقوامی اداروں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں چاند اور مریخ کی تحقیق، آرٹیمس معاہدوں کے نفاذ اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں نجی شعبے کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلیٰ سطحی مباحثوں میں جرمنی اور پیرو کے نمائندوں کے ساتھ شرکت کے دوران ایجنسی نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داریوں کو فروغ دینا ضروری ہے، تاکہ جدید ٹیکنالوجیز کی ترقی اور قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔