اماراتی شوٹنگ کھیل کی عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی، نوجوانوں کی بڑھتی دلچسپی

ابوظہبی، 19 اپریل، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات میں شوٹنگ کا کھیل دہائیوں سے عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے، جہاں مختلف شعبوں میں چیمپئن کھلاڑی سامنے آئے ہیں۔ قومی ورثے سے جڑا یہ کھیل ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے نئی نسل کو پستول، رائفل، اسکیٹ اور ٹریپ جیسے مقابلوں میں شرکت کی طرف راغب کر رہا ہے۔

اس شعبے کی ترقی میں ویپنز اینڈ ہیزرڈس سبسٹنس آفس، العین شوٹنگ کلب اور حمدان بن محمد ہیریٹیج سینٹر جیسے قومی اداروں نے اسٹریٹجک اقدامات کے ذریعے اہم کردار ادا کیا ہے۔

شمولیت کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے، جہاں خواتین اور افرادِ ہمت نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پیرا اولمپک ہیرو عبداللہ سلطان العریانی نے پانچ تمغے جیتے، جن میں لندن 2012 اور ٹوکیو 2020 میں حاصل کردہ طلائی تمغے بھی شامل ہیں۔

یو اے ای کی اولمپک تاریخ میں شیخ احمد بن حشر المکتوم کا ایتھنز 2004 میں تاریخی طلائی تمغہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جبکہ اٹلانٹا 1996 سے ٹوکیو 2020 تک مسلسل شرکت اس تسلسل کی عکاس ہے۔ حالیہ کامیابیوں میں گزشتہ جنوری دوحہ میں ایشیائی چیمپئن شپ کے دوران قومی ٹریپ ٹیم کا کانسی کا تمغہ شامل ہے۔

ملکی سطح پر یو اے ای لائسنسڈ ویپنز شوٹنگ چیمپئن شپ نے کھیل کے دائرہ کار کو وسعت دی ہے، جس میں 850 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا۔

اس موقع پر الظفرہ شوٹنگ کلب کے چیئرمین سالم سعید السبوسی نے کہا کہ سال بھر ہونے والے مقابلوں کی بدولت اس کھیل میں نمایاں ترقی ہوئی ہے اور نوجوانوں کی ایک باصلاحیت نئی کھیپ ابھر رہی ہے۔

ابوظہبی انٹرنیشنل شاٹ گن چیمپئن شپ جیسے بڑے ایونٹس نے بھی ملک کو عالمی سطح پر ایک اہم مرکز کے طور پر مستحکم کیا ہے، جبکہ حکام اور کھلاڑی قیادت کے کردار کو سراہتے ہیں، جس نے ایک محفوظ اور عالمی معیار کا ماحول فراہم کر کے اعلیٰ صلاحیتوں کو فروغ دیا ہے۔