عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل: ایران و اسرائیل خطے میں عدم استحکام کے ذمہ دار ہیں

قاہرہ، 21 اپریل 2026 (وام)--عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل خطے میں بالادستی کے ایسے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں جو عدم استحکام کی بنیادی وجوہات ہیں۔

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عرب خطہ اپنی جدید تاریخ میں دو بڑے خطرات سے دوچار رہا ہے۔ پہلا خطرہ اسرائیل کی جانب سے ہے، جو گزشتہ 78 برس سے فلسطین پر قبضے اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کی صورت میں جاری ہے، جبکہ دوسرا خطرہ 1979 سے ایران کی جانب سے عرب ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی شکل میں سامنے آیا۔

احمد ابو الغیط نے زور دیا کہ خطہ ان دونوں خطرناک توسیع پسندانہ اور بالادستی کے منصوبوں کے باعث مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان خطرات کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور ان کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، علاقائی تعلقات محض مفادات کے ٹکراؤ اور تصادم کی فضا سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔

انہوں نے اس کے برعکس خلیجی ممالک کو ایک مثبت مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خوشحالی، کشادگی اور استحکام پر مبنی ماڈل پیش کیا ہے اور ایرانی جارحیت کے باوجود مضبوطی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

عرب لیگ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران اور اسرائیل دونوں اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر خاموشی خطے میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کی بلند سطحیں اس کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے ارادے کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اسی راستے پر چل سکتے ہیں۔

احمد ابو الغیط نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کسی امن منصوبے کی عدم موجودگی اور 2002 کے عرب امن منصوبے کو مسترد کرنا بھی خطے میں جاری کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔