جنوبی کوریا کی معیشت میں ساڑھے پانچ سال کی تیز ترین سہ ماہی نمو

سیول، 23 اپریل 2026 (وام)--جنوبی کوریا کی معیشت نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ساڑھے پانچ سال کی تیز ترین شرح سے ترقی کی، جس کی بڑی وجہ سیمی کنڈکٹرز کی مانگ میں اضافے کے باعث برآمدات میں مضبوط اضافہ اور مقامی مانگ کا مستحکم رہنا ہے۔

مرکزی بینک کے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران حقیقی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا۔ یونہاپ نیوز ایجنسی نے بینک آف کوریا کے حوالے سے بتایا کہ یہ شرح نمو 2020 کی تیسری سہ ماہی کے بعد سب سے زیادہ ہے، جب معیشت میں 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

یہ شرح بینک آف کوریا کے 0.9 فیصد کے تخمینے سے بھی تقریباً دوگنی رہی، جو معیشت کی توقع سے بہتر کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹرز کی مضبوط مانگ کے باعث برآمدات میں سہ ماہی بنیاد پر 5.1 فیصد اضافہ ہوا، جو 2020 کی تیسری سہ ماہی کے بعد سب سے تیز رفتار اضافہ ہے۔

سالانہ بنیاد پر پہلی سہ ماہی میں معیشت 3.6 فیصد کی شرح سے بڑھی، جو گزشتہ سہ ماہی کے 1.6 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

اسی دوران حقیقی مجموعی قومی آمدن (جی ڈی آئی) میں سہ ماہی بنیاد پر 7.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 1988 کی پہلی سہ ماہی کے بعد بلند ترین سطح ہے، جب یہ شرح 8 فیصد تک پہنچی تھی۔