برسلز میں فلسطین سے متعلق وزارتی اجلاس، یو اے ای کا دو ریاستی حل پر زور

برسلز، 23 اپریل 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات نے برسلز میں ناروے کی صدارت میں منعقدہ ایڈہاک لائژن کمیٹی (اے ایچ ایل سی) کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جس میں اہم بین الاقوامی شراکت داروں اور تنظیموں نے بھی حصہ لیا۔

متحدہ عرب امارات کے وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے معاون وزیر برائے ترقی اور بین الاقوامی تنظیمات سلطان الشامسی نے کی۔

اجلاس میں تنازع کے فریقین، بڑے عطیہ دہندگان ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے شرکت کی، جہاں غزہ میں انسانی ضروریات، ادارہ جاتی اور معاشی چیلنجز پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے انسانی امداد کی فراہمی اور ابتدائی بحالی کی کوششوں کے لیے مربوط عالمی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے ادارے "اونروا" (یو این آر ڈبلیو اے) کی حمایت اور فلسطینی مہاجرین کو بنیادی خدمات فراہم کرنے میں اس کے اہم کردار پر بھی گفتگو کی گئی۔

سلطان الشامسی نے اس موقع پر فلسطینی کاز کی حقانیت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات فلسطین۔اسرائیل تنازع کے حل کے لیے دو ریاستی حل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی منصفانہ اور جامع امن کی مستقل حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یو اے ای مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق فلسطینی عوام تک محفوظ اور پائیدار انسانی امداد کی فراہمی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

الشامسی نے جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز اور غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حاصل شدہ پیش رفت کو آگے بڑھانا اور ایک مؤثر سیاسی عمل کی بحالی ضروری ہے، جو منصفانہ اور دیرپا حل کی جانب لے جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کا نظم و نسق فلسطینی عوام کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی سفارتی کاوشوں میں فلسطینی عوام کی حمایت کو ترجیح دیتا ہے اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار امن کے فروغ کے لیے سرگرم ہے، جس میں بورڈ آف پیس کے بانی رکن اور غزہ ایگزیکٹو بورڈ کی رکنیت شامل ہے۔

اپنے نمایاں انسانی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے سلطان الشامسی نے بتایا کہ یو اے ای غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنے والے سرِفہرست ممالک میں شامل ہے، جو زمینی، فضائی اور بحری راستوں سے 1 لاکھ 30 ہزار ٹن سے زائد امداد پہنچا چکا ہے، جو مجموعی عالمی امداد کا 45 فیصد سے زیادہ بنتی ہے، جبکہ مجموعی مالی معاونت تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر ہے۔

مزید برآں، یو اے ای نے چھ ڈی سیلینیشن پلانٹس قائم کیے ہیں جن سے 10 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں، 2 ہزار 963 سے زائد مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج کے لیے منتقل کیا گیا ہے، جبکہ غزہ میں فیلڈ اسپتال اور العریش میں فلوٹنگ اسپتال بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ صحت کے شعبے کی ہنگامی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔