ابوظہبی، 26 اپریل، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات کی سائبر سکیورٹی کونسل نے ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد اور اداروں کے لیے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک بن چکی ہے۔
ایمریٹس نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے کونسل نے بتایا کہ ڈیجیٹل شناخت سے منسلک معلومات، جن میں ذاتی کوائف، مالی لین دین اور طبی ریکارڈ شامل ہیں، اسے ایک حساس اور اہم اثاثہ بناتے ہیں، جس کا مؤثر تحفظ ناگزیر ہے۔
کونسل کے مطابق مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز اور کلاؤڈ ایپلی کیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ڈیجیٹل شناخت سائبر حملہ آوروں کے لیے آسان ہدف بن گئی ہے، جو معمولی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر جعل سازی، دھوکہ دہی یا ڈیٹا کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ہوتے ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل شناخت کا تحفظ کوئی تکنیکی آسائش نہیں بلکہ رازداری کے تحفظ، فراڈ کی روک تھام اور ڈیجیٹل خدمات کے تسلسل کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔
کونسل نے انکشاف کیا کہ رواں سال کے پہلے نصف میں ڈیجیٹل شناخت کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ڈیجیٹل خدمات اور اسمارٹ ایپلی کیشنز پر بڑھتے ہوئے انحصار کا نتیجہ ہے۔
کونسل نے ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے جدید حفاظتی اقدامات اپنانے کی اہمیت پر زور دیا، جو 99 فیصد سے زائد شناختی حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور صارفین کے تحفظ کے لیے مؤثر ترین ذرائع میں شامل ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ ڈیجیٹل شناخت کی خلاف ورزی صرف ڈیٹا کے نقصان تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے نتیجے میں شناخت کی چوری، مالی فراڈ اور ساکھ کو نقصان جیسے سنگین مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جو اسے ایک اسٹریٹجک چیلنج بنا دیتے ہیں۔
کونسل نے حفاظتی اقدامات کے طور پر حساس معلومات کے غیر ضروری تبادلے سے گریز، کمزور پاس ورڈز کے دوبارہ استعمال سے اجتناب، مضبوط اور پیچیدہ پاس ورڈز کے انتخاب اور ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن کو فعال کرنے کی ہدایت دی، اور کہا کہ یہ سادہ اقدامات ہی دفاع کی پہلی مضبوط دیوار ثابت ہوتے ہیں۔
کونسل نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کی جنگ اب صرف تکنیکی نہیں بلکہ شعور اور رویے سے بھی جڑی ہوئی ہے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی مؤثر صارفین کے بغیر مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔
کونسل کے مطابق تیز رفتار ڈیجیٹل ترقی کے اس دور میں سہولت اور سکیورٹی کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے مؤثر پالیسیوں، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط ڈیجیٹل ثقافت کا باہمی انضمام ضروری ہے۔