کاروباری ماحول میں امارات مسلسل پانچویں سال بھی عالمی سطح پر پہلے نمبر پر

ابوظہبی، 27 اپریل، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات نے عالمی کاروباری ماحول میں اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر (GEM) 2025/2026 رپورٹ میں مسلسل پانچویں سال بھی دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جس سے نئے کاروبار کے آغاز اور فروغ کے لیے اسے عالمی سطح پر بہترین ماحول قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امارات نے اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں آٹھ اہم اشاریوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جن میں بنیادی ڈھانچہ، حکومتی پالیسیاں، ٹیکس و بیوروکریسی، کاروباری پروگرامز، تحقیق و ترقی کی منتقلی، مارکیٹ تک رسائی اور کاروباری تعلیم شامل ہیں۔

ملک نے کاروباری مالیات اور فنڈنگ تک رسائی میں بھی عالمی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی، جو اس کے مالیاتی نظام کی مضبوطی اور لچک کو ظاہر کرتا ہے۔ امارات ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کاروباری ماحول کے تمام بنیادی معیارات میں مطلوبہ سطح حاصل کی۔

وزیرِ معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے اس کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ درجہ بندی امارات کے اس عزم کا ثبوت ہے کہ وہ کاروباری ماحول کو مزید مستحکم بنا کر دنیا میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے اولین مقام برقرار رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی قیادت کے وژن کا نتیجہ ہے، جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور جدت پر مبنی معیشت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ اماراتی معیشت علاقائی و عالمی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امارات میں کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں 20 فیصد سے زائد بالغ افراد نئے کاروبار شروع کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ ابتدائی مرحلے کی کاروباری سرگرمی (TEA) کی شرح 19.2 فیصد رہی۔

اسی طرح شہریوں میں کاروباری سرگرمی 19.6 فیصد اور مقیم افراد میں 22.4 فیصد تک پہنچ گئی، جو ملک کی صلاحیتوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے اور مختلف طبقات کی شمولیت کو فروغ دینے کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، تعلیمی اداروں میں کاروباری تعلیم میں بہتری، اور جدید و متنوع مالی وسائل کی دستیابی کو بھی امارات کی نمایاں کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر دنیا بھر میں کاروباری سرگرمیوں کا جائزہ لینے والا ایک اہم عالمی ادارہ ہے، جس کی حالیہ رپورٹ 53 معیشتوں پر مشتمل ہے، جو عالمی آبادی اور معیشت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔