ابوظہبی، 28 اپریل، 2026 (وام)--نیویارک یونیورسٹی ابوظہبی کے محققین نے جدید نرم اور لچکدار سینسرز تیار کیے ہیں جو کم سے کم چیرا لگانے والی سرجری (کی ہول سرجری) کے دوران سرجن کے لیے لمس کے احساس کو دوبارہ ممکن بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں، جسے جراحی ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تحقیقی جریدے مائیکرو سسٹمز اینڈ نینو انجینئرنگ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ڈاکٹر محمد اے قسیمہ کی قیادت میں ماہرین نے ملٹی چینل سینسرز تیار کیے، جو نہایت ہلکے دباؤ سے لے کر مضبوط گرفت تک مختلف نوعیت کی قوت کو فوری طور پر ناپنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ سینسر نرم سلیکون پر مشتمل ہیں جن میں باریک نالیوں کے اندر مائع دھات بھری گئی ہے۔ دباؤ پڑنے پر ان نالیوں میں معمولی تبدیلی واقع ہوتی ہے، جس کے ذریعے قوت کی درست پیمائش ممکن ہوتی ہے۔
محققین نے اس ٹیکنالوجی کو لیپروسکوپک جراحی آلات میں نصب کر کے اس کی افادیت کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ ایک سینسر آلے کے ہینڈل پر نصب کیا گیا تاکہ سرجن کی جانب سے لگائی جانے والی قوت کو ریکارڈ کیا جا سکے، جبکہ دوسرا سینسر آلے کے جبڑے پر لگا کر بافتوں کے ساتھ تعامل کو جانچا گیا۔
ڈاکٹر محمد قسیمہ کے مطابق اگرچہ کم سے کم چیرا لگانے والی سرجری مریضوں کے لیے زیادہ محفوظ اور مؤثر ہوتی ہے، تاہم اس میں سرجن کے لمس کا قدرتی احساس محدود ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید سینسرز اس کمی کو پورا کرتے ہوئے جراحی آلات کو زیادہ ذہین اور محفوظ بنانے کی جانب اہم قدم ہیں۔
مطالعے کے مرکزی مصنف وائل عثمان نے کہا کہ اس تحقیق کا مقصد ایسے سینسرز تیار کرنا تھا جو حساس ہونے کے ساتھ عملی طور پر جراحی ماحول میں قابلِ استعمال بھی ہوں، تاکہ ایک ہی مختصر نظام کے ذریعے مختلف سطح کی قوت کو مؤثر انداز میں ناپا جا سکے۔
محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں روبوٹکس، اسمارٹ پہننے کے قابل آلات اور دیگر جدید نظاموں میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے، جہاں قوت کی درست پیمائش بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔