متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس اتحاد سے علیحدگی کا اعلان

ابوظہبی، 28 اپریل، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات نے یکم مئی 2026 سے تنظیم برائے پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک (اوپیک) اور اوپیک پلس اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے، جسے ملک کی طویل مدتی معاشی حکمت عملی اور توانائی کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے تناظر میں اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ ملکی مفاد، توانائی پیداوار کی پالیسی کے جامع جائزے اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جبکہ اس کا مقصد عالمی منڈی کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ قلیل مدتی طور پر خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز میں صورتحال کے باعث توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، تاہم طویل المدتی بنیادوں پر عالمی توانائی کی مانگ میں مسلسل اضافہ متوقع ہے، جس کے پیش نظر لچکدار اور قابلِ اعتماد سپلائی ناگزیر ہے۔

امارات نے واضح کیا کہ وہ عالمی توانائی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور مانگ کے مطابق تدریجی اور متوازن انداز میں پیداوار بڑھاتا رہے گا۔

یہ فیصلہ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اوپیک کے ساتھ تعاون کے بعد کیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے 1967 میں ابوظہبی کے ذریعے اوپیک میں شمولیت اختیار کی تھی اور 1971 میں ملک کے قیام کے بعد بھی تنظیم کا فعال رکن رہا، اس دوران عالمی تیل منڈی کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔

حکام کے مطابق یہ اقدام پالیسی میں ارتقائی تبدیلی کا عکاس ہے، جس کے ذریعے امارات کو بدلتی ہوئی عالمی مارکیٹ صورتحال کے مطابق زیادہ مؤثر اور لچکدار انداز میں ردعمل دینے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات تیل، گیس، قابلِ تجدید توانائی اور کم کاربن حل سمیت توانائی کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا تاکہ طویل المدتی استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ آئندہ بھی عالمی توانائی منڈی کے استحکام کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔