دبئی ایرو اسپیس انٹرپرائز کا منافع 19 فیصد اضافے کے بعد 102 ملین ڈالر تک پہنچ گیا

دبئی، 29 اپریل، 2026 (وام)--دبئی ایرو اسپیس انٹرپرائز (ڈی اے ای) لمیٹڈ نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کمپنی کا خالص منافع 102.2 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 85.8 ملین ڈالر کے مقابلے میں 19.11 فیصد زیادہ ہے۔

کمپنی کے مطابق قبل از ٹیکس منافع 120.4 ملین ڈالر رہا، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ 101.2 ملین ڈالر تھا۔ اسی طرح آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ 455.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال 395.9 ملین ڈالر تھی۔

آپریٹنگ منافع 243.1 ملین ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال یہ 201.4 ملین ڈالر تھا۔ خالص مالی لاگت 122.7 ملین ڈالر اور انکم ٹیکس اخراجات 18.2 ملین ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

آپریٹنگ کیش فلو 296.3 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 344.7 ملین ڈالر تھا۔ قبل از ٹیکس منافع کا مارجن بڑھ کر 26.4 فیصد ہو گیا، جبکہ ایکویٹی پر منافع کی شرح 13 فیصد پر برقرار رہی۔

مالی پوزیشن کے لحاظ سے مارچ 2026 کے اختتام پر کمپنی کے مجموعی اثاثے 16.336 ارب ڈالر رہے، جبکہ دسمبر 2025 کے اختتام پر یہ تقریباً 16.547 ارب ڈالر تھے۔ دستیاب لیکویڈیٹی بڑھ کر 4.547 ارب ڈالر ہو گئی، جبکہ لیکویڈیٹی کوریج ریشو 277 فیصد سے بڑھ کر 1,089 فیصد تک پہنچ گیا۔

کاروباری سرگرمیوں کے دوران کمپنی نے 9 طیارے حاصل کیے اور 15 فروخت کیے، جبکہ 64 لیز معاہدوں، توسیعات اور ترامیم پر دستخط کیے گئے۔ کمپنی کے زیرِ ملکیت، زیرِ انتظام اور متوقع طیاروں کی مجموعی تعداد 663 ہو گئی۔

ڈی اے ای نے 2.8 ارب ڈالر کے نئے طویل مدتی غیر محفوظ گردشی کریڈٹ سہولت کے معاہدے بھی کیے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیروز تاراپورے نے کہا کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی کمپنی کے لیے غیر معمولی رہی۔ ان کے مطابق اس دوران کمپنی نے تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے کے تحت مکویری ایئر فنانس لمیٹڈ کے 100 فیصد حصص خریدنے کا معاہدہ کیا، جس کی تکمیل کے بعد بیڑے میں تقریباً 350 طیاروں کا اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کمپنی کی مضبوط مالی کارکردگی اور وسعت کے باعث عالمی ریٹنگ ایجنسی کے بی آر اے نے ڈی اے ای کی سینیئر غیر محفوظ قرضہ درجہ بندی کو بڑھا کر "اے مائنس" کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پہلی سہ ماہی کے نتائج کمپنی کی مضبوط کارکردگی کا مظہر ہیں، جہاں آمدنی ریکارڈ سطح پر پہنچی اور منافع میں بہتری آئی ہے۔