ابوظہبی، 30 اپریل، 2026 (وام)--وزیر توانائی و انفراسٹرکچر اور سپلائی و ٹرانسپورٹ کمیٹی کے چیئرمین سہیل محمد المزروعی نے کہا ہے کہ یو اے ای کا ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین نظام مسلسل مؤثر اور مستحکم انداز میں کام کر رہا ہے، جو ایک مربوط قومی حکمت عملی پر مبنی ہے جس میں پیشگی تیاری، باہمی تعاون اور مستقبل کی منصوبہ بندی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپلائی اور ٹرانسپورٹ نظام کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ یو اے ای علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اشیاء کی ترسیل بھی مؤثر انداز میں جاری ہے۔ یہ سب مضبوط اور لچکدار انفراسٹرکچر، اور سمندری، زمینی اور ریل ذرائع کے باہمی ربط کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ صورتحال کے آغاز سے اب تک 2 لاکھ 62 ہزار سے زائد کنٹینرز ہینڈل کیے گئے ہیں، جبکہ روزانہ تقریباً 4 ہزار 800 ٹرک بندرگاہوں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کے لیے چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یو اے ای کی سمندری حدود میں تقریباً 1,200 جہازوں کی نگرانی بھی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ساحل کی بندرگاہوں اور مشرقی ساحل کے درمیان رابطہ ایک مربوط ٹرک نیٹ ورک کے ذریعے بہتر بنایا جا رہا ہے، جس کے ساتھ نقل و حرکت میں نرمی اور فیسوں میں چھوٹ جیسی سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون نے بھی اشیاء کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنایا ہے۔
سہیل المزروعی کے مطابق یہ نظام سپلائی و ٹرانسپورٹ کمیٹی کے تحت ایک جامع قومی فریم ورک کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جس میں 20 سے زائد وفاقی، مقامی اور آپریشنل ادارے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس نظام میں واضح حکمت عملی کے تحت کارکردگی اور پائیداری کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ بندرگاہوں، زمینی سرحدوں اور ریلوے کے درمیان براہ راست رابطہ بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی نگرانی کرنے والی قومی ٹیم موجودہ صورتحال میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس میں سامان کی روانی، ڈیٹا اور لاجسٹکس کے لیے خصوصی ٹیمیں شامل ہیں۔ ایک قومی آپریشن روم چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے، جہاں سامان کی نقل و حرکت کی فوری نگرانی کی جاتی ہے، جہازوں کی آمد و رفت کو ترجیحی بنیادوں پر منظم کیا جاتا ہے اور کسی بھی مسئلے کو فوری حل کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق راستوں میں تبدیلی بھی کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری نے سپلائی چین کی تیاری کو مزید مضبوط کیا ہے۔ مشرقی ساحل کی بندرگاہوں کی صلاحیت میں 20 گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ روزانہ ٹرکوں کی نقل و حرکت 30 گنا بڑھی ہے۔ کولنگ پوائنٹس 490 سے بڑھ کر 2,400 سے زائد ہو گئے ہیں، کرینوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 70 لاکھ مربع میٹر سے زائد اسٹوریج کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ فجیرہ بندرگاہ پر خلیجی ممالک سے آنے والے 28 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد سامان کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ یو اے ای میں عوام اور حکومت کے درمیان مضبوط اعتماد اور شعور پایا جاتا ہے، جو موجودہ صورتحال میں بھی واضح ہے، اور یہ شراکت داری خدمات کے تسلسل اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بناتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے عوام کا ذمہ دارانہ رویہ اور قومی یکجہتی قابلِ تعریف ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی اصل طاقت اس کے عوام کے اتحاد اور شعور میں ہے۔
وزارت کے انڈر سیکرٹری برائے انفراسٹرکچر و ٹرانسپورٹ محمد المنصوری نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو دی گئی سہولتوں نے لاجسٹکس شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنایا ہے اور اشیاء کی ترسیل کو مزید آسان بنایا ہے۔
ان کے مطابق ان سہولتوں میں متبادل راستوں کا استعمال، بندرگاہوں کے درمیان ٹرکوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کا خاتمہ، اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر سڑکوں پر ٹرکوں کی آمد و رفت کی اجازت شامل ہے، جس سے ترسیل کا وقت کم ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی ساحل اور دیگر بندرگاہوں کے درمیان راستوں پر فیسیں معاف کی گئی ہیں، کسٹمز کے طریقہ کار کو تیز کیا گیا ہے اور خلیجی ممالک کے درمیان گاڑیوں کے داخلے کو آسان بنایا گیا ہے، حتیٰ کہ خالی گاڑیوں کو بھی داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ کے آغاز سے بندرگاہوں کی کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یو اے ای کی بندرگاہیں ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، اور ان کا مربوط نظام سامان کی روانی کو یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں کی جدید صلاحیت، ریلوے اور زمینی سرحدوں کے ساتھ رابطہ، اور متبادل راستوں کی موجودگی نے سامان کی نقل و حرکت کو مؤثر بنایا ہے، جبکہ اچانک اضافے سے نمٹنے کے لیے بھی مکمل تیاری موجود ہے۔ یہ تمام اقدامات یو اے ای کو عالمی لاجسٹکس مرکز کے طور پر مزید مضبوط بناتے ہیں۔
شارجہ پورٹس، کسٹمز اینڈ فری زونز اتھارٹی کے چیئرمین شیخ خالد بن عبداللہ بن سلطان القاسمی نے کہا کہ لاجسٹکس نظام کا تسلسل مختلف اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کا نتیجہ ہے، جس سے بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر ہوئی اور اشیاء کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ مشرقی ساحل کی بندرگاہیں قومی نظام میں اہم حیثیت رکھتی ہیں اور سپلائی چین کے متبادل راستوں کو مضبوط بناتی ہیں، جس سے یو اے ای کی علاقائی اور عالمی حیثیت مزید مستحکم ہوتی ہے۔
ابوظہبی پورٹس گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور گروپ سی ای او کیپٹن محمد جمعہ الشمیسی کے مطابق قومی بحری کمپنیاں سپلائی چین کے تسلسل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور جدید لاجسٹکس سہولیات فراہم کر رہی ہیں، جس سے ہنگامی حالات میں بھی اشیاء کی ترسیل جاری رہتی ہے۔
دبئی میں پورٹس، کسٹمز اینڈ فری زون کارپوریشن کے چیئرمین عبداللہ بن دمیثان نے کہا کہ یو اے ای کی کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ ملک عالمی تجارتی تبدیلیوں کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگ ہو رہا ہے، جبکہ سپلائی چین کا استحکام اور بندرگاہوں کے درمیان بہتر رابطہ اس کی مضبوطی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اتحاد ریل کے سی ای او شاذی ملک نے کہا کہ قومی ریلوے نیٹ ورک ملک کے ٹرانسپورٹ نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو بندرگاہوں، سرحدوں اور لاجسٹکس مراکز کو آپس میں جوڑتا ہے اور ملکی و علاقائی تجارت کو فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں فریٹ ٹرین سروس کے آغاز کے بعد سے اس نظام نے معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور موجودہ مرحلے میں بھی بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے، جس سے یو اے ای کی عالمی لاجسٹکس مرکز کے طور پر حیثیت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔