بیجنگ، یکم مئی، 2026 (وام)--سائنسدانوں نے ایک نیا طریقہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے جسم کے اپنے مدافعتی خلیات کو بغیر باہر نکالے کینسر سے لڑنے والے خلیات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سرخ خون کے خلیات کے ذریعے جینیاتی ہدایات جسم کے اندر پہنچائی جاتی ہیں۔
عام طور پر CAR تھراپی میں مریض کے 'ٹی سیلز' کو جسم سے نکال کر لیبارٹری میں تبدیل کیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے، جو ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ تاہم اس نئے طریقے میں اس مرحلے کی ضرورت ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
جریدے "سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن" میں شائع تحقیق کے مطابق چین کے شہر ہانگژو میں ویسٹ لیک لیبارٹری کے ماہرین نے سرخ خون کے خلیات کو استعمال کرتے ہوئے میسنجر آر این اے (ایم آر این اے) جسم کے اندر پہنچایا، جس سے مدافعتی خلیات کو کینسر کے خلاف سرگرم کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر شیاو چیان نی نے کہا کہ مدافعتی خلیات کو اس طرح تبدیل کرنا علاج کے لیے بڑی امید رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طریقے میں سرخ خون کے خلیات کو ایک ذریعہ بنایا گیا ہے، جو ایم آر این اے کو جسم میں لے جا کر مخصوص مدافعتی خلیات کو کینسر سے لڑنے کے قابل بناتے ہیں۔
یہ طریقہ کینسر کے علاج میں ایک نئی سمت فراہم کر سکتا ہے، کیونکہ اس سے پیچیدہ اور مہنگے لیبارٹری مراحل کی ضرورت کم ہو سکتی ہے اور علاج کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔