ابوظہبی، یکم مئی، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کی میرین انوائرمنٹ پروٹیکشن کمیٹی کے 84ویں اجلاس میں منظور کی گئی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں، بندرگاہی تنصیبات اور ساحلی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر بند کرے۔
قرارداد میں ان حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جن کے نتیجے میں تیل، کیمیکلز یا دیگر مضر مواد کے باعث سمندری آلودگی کا خطرہ ہے، جس سے خطے کے سمندری ماحول اور حیاتیاتی تنوع کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
قرارداد میں رکن ممالک اور متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آلودگی سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنائیں اور خلیج عرب، بحیرہ عمان اور بحیرہ عرب میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیں۔ آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل کو ایران کی کارروائیوں کے ماحولیاتی اثرات کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کی وزیر ڈاکٹر آمنہ بنت عبداللہ الضحاک اور ماحولیات ایجنسی ابوظہبی کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شیخہ سالم الظاہری نے کہا کہ اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ خلیجی پانیوں میں ماحولیاتی نقصان محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری ماحول کا تحفظ خوراک، پانی اور معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے تجارتی جہازوں اور تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کے نایاب حیاتیاتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ماہی گیری و بحری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کے خصوصی نمائندے برائے ماحولیاتی امور رزان خلیفہ المبارک نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ماحول کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھے گا، کیونکہ ماحولیاتی تحفظ علاقائی اور عالمی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔