ابوظہبی، 2 مئی، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات مستقبل کی مصنوعی ذہانت کی قیادت کے لیے نئی نسل کی تیاری پر اسٹریٹجک سرمایہ کاری کر رہا ہے، تاکہ تیزی سے بدلتی عالمی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ رہا جا سکے۔
یہ حکمت عملی یو اے ای کی اختراع میں قیادت کو مضبوط بناتی ہے اور ویژن 2031 کے اہداف کے حصول میں معاون ہے۔
محمد بن زاید یونیورسٹی برائے مصنوعی ذہانت (ایم بی زیڈ یو اے آئی) اس حوالے سے ایک اہم قومی ادارے کے طور پر ابھری ہے، جو ٹیلنٹ کی تربیت، تحقیق کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی میں ملک کی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔
یونیورسٹی نے اپنے قیام کے بعد ایک منفرد تعلیمی و تحقیقی ماڈل متعارف کرایا ہے، جس میں تخصص، بین الاقوامی تعاون اور عملی اطلاق کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے محققین اور ماہرین تیار ہو رہے ہیں جو مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو شکل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پی ایچ ڈی محقق عبداللہ المنصوری (کلاس 2026) نے کہا کہ ایم بی زیڈ یو اے آئی میں داخلہ ان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جہاں انہیں جدید تحقیق کا ماحول اور عالمی ماہرین کی رہنمائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت ایسے ماڈلز پر کام کر رہے ہیں جو مشترکہ طور پر کام کر سکیں اور صارفین کی ضروریات کے مطابق بہتر انداز میں ڈھل سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تحقیق صحت کے شعبے میں بھی استعمال ہو رہی ہے، جہاں ڈیٹا کی رازداری برقرار رکھتے ہوئے پیشگوئی کرنے والے ماڈلز تیار کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب مشین لرننگ میں ماسٹرز کی گریجویٹ بشائر السریدی (کلاس 2026) نے کہا کہ یونیورسٹی میں تعلیم نے ان کے کیریئر کو نئی سمت دی، حالانکہ وہ اس شعبے میں پہلے تجربہ نہیں رکھتی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ماحول نے انہیں تحقیق میں تیزی سے آگے بڑھنے کا موقع دیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں اپنا تحقیقی کام پیش کیا اور ایک ابتدائی پیٹنٹ درخواست بھی دائر کی۔
بشائر کے مطابق یونیورسٹی طلبہ کو نظریاتی علم کے ساتھ عملی تجربہ بھی فراہم کرتی ہے، جس سے وہ ایوی ایشن، خلائی اور دیگر اہم شعبوں میں حقیقی مسائل کے حل پر کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق ذہین نظاموں کی تیاری پر مرکوز ہے، جو صحت، زبان کی شناخت، کمپیوٹر وژن اور خودکار نظاموں جیسے شعبوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ یو اے ای نوجوانوں اور علم میں سرمایہ کاری کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں اپنی قیادت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔