ابوظہبی، 3 مئی، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات ری جنریٹو میڈیسن اور اسٹیم سیل تھراپی کے شعبے میں تیزی سے اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہا ہے، جس سے جدید اور جینیاتی علاج میں اس کا کردار علاقائی اور عالمی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایک جامع وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، طبی مہارت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک پائیدار صحت کا نظام قائم کرنا ہے۔
ابوظہبی اسٹیم سیلز سینٹر (اے ڈی ایس سی سی) اس شعبے میں ایک نمایاں قومی ادارے کے طور پر سامنے آیا ہے، جو طبی خدمات، تحقیق اور بایو مینوفیکچرنگ کو یکجا کرتے ہوئے پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں اسٹیم سیلز کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ مرکز ہڈیوں کے گودے کی پیوندکاری، جینیاتی علاج، اور دیگر جدید طریقہ علاج کے ذریعے مریضوں کو سہولیات فراہم کر رہا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے تشخیص کے عمل کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔
یاس کلینک ہسپتال، جو اس سینٹر کا طبی بازو ہے، سیلولر اور جین تھراپی کے شعبے میں خدمات کو وسعت دے رہا ہے، جس سے تحقیق اور عملی علاج کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔
مرکز نے متعدد جدید علاج متعارف کرائے ہیں، جن میں مدافعتی خلیات پر مبنی تھراپی اور اسٹیم سیل علاج شامل ہیں، جبکہ CAR-T تھراپی کے ذریعے ایک مریض کا کامیاب علاج بھی کیا گیا۔
اسی طرح CRISPR-Cas9 ٹیکنالوجی کے ذریعے یو اے ای میں خون کی بیماریوں کے علاج کے لیے پہلی جین تھراپی بھی کی گئی، جس سے جینیاتی امراض کے علاج میں نئی راہیں کھلی ہیں۔
مرکز نے مریض کے اپنے خلیات سے اعصابی اسٹیم سیلز تیار کرنے کی جدید تکنیک بھی متعارف کرائی ہے، جو ری جنریٹو میڈیسن میں اہم پیش رفت ہے۔
ہڈیوں کے گودے کی پیوندکاری میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، جن میں مختلف ممالک کے مریضوں کا کامیاب علاج شامل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 113 پیوندکاریاں کی گئیں، جبکہ 2022 سے اب تک مجموعی تعداد 240 تک پہنچ گئی ہے۔ CAR-T تھراپی کے 26 کیسز میں بھی عالمی معیار کے مطابق نتائج حاصل ہوئے، جہاں بقا کی شرح 80 فیصد رہی۔
ماہرین کے مطابق ری جنریٹو میڈیسن ایک جدید شعبہ ہے، جس میں خراب خلیات اور اعضاء کی مرمت یا تبدیلی کی جاتی ہے، اور اس میں اسٹیم سیلز کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔