یو اے ای فِن ٹیک میں عالمی قیادت کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے

ابوظہبی، 4 مئی، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، لچکدار قوانین اور سرکاری و نجی شعبوں کے مضبوط تعاون کی بدولت فِن ٹیک (مالیاتی ٹیکنالوجی) کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

یہ مربوط نظام کمپنیوں کے لیے مارکیٹ میں داخلے کو آسان بناتا ہے، ان کی ترقی میں مدد دیتا ہے اور جدید مالیاتی خدمات کی تیاری کو فروغ دیتا ہے۔

ایمریٹس نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے فِن ٹیک کمپنیوں کے عہدیداروں نے کہا کہ یو اے ای جلد ان اولین ممالک میں شامل ہوگا جہاں لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں فِن ٹیک تبدیلیوں کے واضح اثرات محسوس کریں گے۔

موارد فنانس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راشد القبیسی نے کہا کہ یو اے ای کا مربوط نظام کمپنیوں کو تیزی سے مارکیٹ میں داخل ہونے اور ترقی کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فِن ٹیک نے مالیاتی خدمات کے انداز کو تبدیل کر دیا ہے، جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کرایہ فنانسنگ جیسی سہولتیں، جہاں صارفین 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں درخواست اور منظوری حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین اب کم رقم کے ساتھ بھی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں فِن ٹیک خدمات صارفین کی روزمرہ ضروریات کا حصہ بن جائیں گی، جس سے خدمات مزید تیز اور ذاتی نوعیت کی ہوں گی۔

فیوذ فنانس کے پارٹنرشپس کے سربراہ فرانسسکو جے فرنانڈیز نے کہا کہ یو اے ای نے واضح قوانین کے ذریعے خود کو فِن ٹیک کے عالمی مرکز کے طور پر منوایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً اسٹیبل کوائنز، بینکنگ نظام اور صارفین کے تعلق کو بدل دیں گی، جبکہ اوپن بینکنگ صارفین کو بہتر مالی فیصلے کرنے میں مدد دے گی۔

ٹائم گارڈین کی سی ای او امیرہ سلیمان نے کہا کہ یو اے ای فِن ٹیک کمپنیوں کے قیام اور ترقی کے لیے دنیا کے بہترین ماحول میں سے ایک ہے، اور اسے علاقائی و عالمی سطح پر “فِن ٹیک کی سلیکون ویلی” کہا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں بینک فِن ٹیک کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے لیے زیادہ تیار ہیں، جبکہ عالمی سرمایہ کار اور کاروباری افراد بھی یو اے ای کو اپنے منصوبوں کے آغاز کے لیے ترجیح دے رہے ہیں۔

شوری یو اے ای کے سی ای او عون السمادی نے کہا کہ یو اے ای میں مضبوط ڈیجیٹل نظام اور جدید قوانین فِن ٹیک کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ انشور ٹیک کا شعبہ بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔