فضائی رکاوٹوں کے باوجود دبئی انٹرنیشنل نے عالمی رابطہ برقرار رکھا، بحالی کے ساتھ آپریشنز میں اضافہ

دبئی، 4 مئی، 2026 (وام) — دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ڈی ایکس بی) نے ایک اہم فضائی راہداری میں علاقائی رکاوٹوں کے باوجود عالمی رابطے کو برقرار رکھا، جہاں فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کے شیڈول پر نمایاں اثر پڑا۔

یو اے ای کی فضائی حدود کی مکمل بحالی کے بعد دبئی ایئرپورٹس نے آپریشنز میں تیزی لانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور علاقائی فضائی راستوں کی دستیابی کے مطابق پروازوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

28 فروری سے شروع ہونے والی صورتحال، جو مارچ میں شدت اختیار کر گئی، کے دوران دبئی کے ایئرپورٹس محدود حالات کے باوجود فعال رہے اور 30 اپریل تک 60 لاکھ مسافروں، 32 ہزار سے زائد پروازوں اور 2 لاکھ 13 ہزار ٹن ضروری کارگو کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا۔

ڈی ایکس بی پر آپریشنز مسلسل بدلتی صورتحال میں جاری رکھے گئے، جہاں پروازوں کے شیڈول، مسافروں کی آمد و رفت اور گراؤنڈ سروسز کو دستیاب فضائی گنجائش کے مطابق ہم آہنگ کیا گیا۔ ایئرپورٹ کے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط فیصلوں نے شدید دباؤ کے باوجود آپریشنز کا تسلسل برقرار رکھا۔

یو اے ای کی فضائی حدود سے تمام احتیاطی پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد دبئی ایئرپورٹس بحالی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں روزانہ پروازوں کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے اور ایئرلائنز کو اپنے شیڈول بتدریج بحال کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ اس وقت گنجائش کا انحصار زیادہ تر یو اے ای سے باہر علاقائی فضائی راستوں کی دستیابی پر ہے، جبکہ ہمسایہ فضائی حدود کے ساتھ رابطہ جاری ہے۔

یہ عمل ون ڈی ایکس بی کمیونٹی کے اشتراک سے ممکن ہوا، جس میں ایمریٹس اور فلائی دبئی سمیت بین الاقوامی ایئرلائنز، سروس فراہم کرنے والے ادارے اور کنٹرول حکام شامل ہیں۔ اس مشترکہ کوشش کے ذریعے مسافروں اور کارگو کی نقل و حرکت جاری رکھی گئی اور گنجائش بہتر ہوتے ہی آپریشنز میں تیزی لائی گئی۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پال گریفتھس نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے غیر معمولی حالات کسی بھی بڑے عالمی ایئرپورٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ عالمی ہوابازی میں ایک اہم مرکز ہے، جہاں سے ٹرانزٹ مسافروں کی بڑی تعداد گزرتی ہے اور ڈی ایکس بی اس میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ایکس بی کے ہموار آپریشنز کو برقرار رکھنا عالمی سفری سلسلے کے لیے نہایت اہم ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے اور فوری فیصلے کیے گئے تاکہ مسافروں کو محفوظ اور مستحکم خدمات فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے تجربے نے نظام کی استعداد کو مزید مضبوط کیا ہے، جس کے ذریعے فضائی گنجائش بہتر ہوتے ہی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے گا، جبکہ ڈی ایکس بی کا عالمی مرکز کے طور پر کردار مزید مستحکم ہوگا۔

دبئی کا عالمی ہوابازی مرکز کے طور پر کردار بین الاقوامی ٹرانزٹ مارکیٹ سے جڑا ہوا ہے، جہاں تقریباً 99.3 ملین مسافروں کے سفر مشرق وسطیٰ کے ذریعے ہوتے ہیں، جن میں سے 70 فیصد خطہ خود سنبھالتا ہے اور ڈی ایکس بی ان میں سے 32 فیصد مسافروں کو ہینڈل کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صورتحال میں بہتری کے ساتھ اس شعبے میں تیزی سے بحالی متوقع ہے، کیونکہ اس طلب کو دیگر مقامات پر منتقل کرنا آسان نہیں۔

ڈی ایکس بی کی کارکردگی اس عرصے میں دبئی کے ہوابازی شعبے کی تیاری اور لچک کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ ادارہ محفوظ اور مستحکم آپریشنز کو برقرار رکھتے ہوئے گنجائش کو موجودہ حالات کے مطابق ترتیب دے رہا ہے۔

آئندہ کے لیے دبئی ایئرپورٹس کو مضبوط طلب کی توقع ہے، اور جیسے جیسے فضائی گنجائش بہتر ہو رہی ہے، پروازوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ایئرلائنز اور فضائی حکام کے ساتھ مل کر مزید گنجائش پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ایئرپورٹ آئندہ مہینوں میں مزید ترقی کے لیے تیار ہے، جبکہ دبئی ورلڈ سینٹرل – المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طویل مدتی توسیعی منصوبہ بندی بھی جاری ہے، جو مستقبل میں دبئی کی عالمی ہوابازی حیثیت کو مزید مضبوط بنائے گی۔

اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ڈی ایکس بی نے 1 کروڑ 86 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20.6 فیصد کم ہیں، جبکہ مارچ میں مسافروں کی تعداد 25 لاکھ رہی، جو 65.7 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

ملکوں کے لحاظ سے بھارت سب سے بڑی مارکیٹ رہا جہاں سے 25 لاکھ مسافر آئے، اس کے بعد سعودی عرب (13 لاکھ)، برطانیہ (12 لاکھ) اور پاکستان (9 لاکھ 18 ہزار) شامل ہیں۔ لندن سب سے مصروف شہر رہا، جہاں سے 7 لاکھ 52 ہزار مسافر آئے، جبکہ ممبئی اور جدہ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

کارگو کی مقدار پہلی سہ ماہی میں 3 لاکھ 99 ہزار 600 ٹن رہی، جو 22.7 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے، جبکہ مارچ میں 66 ہزار ٹن کارگو ہینڈل کیا گیا۔

اسی عرصے میں پروازوں کی تعداد 88 ہزار رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20.8 فیصد کم ہے۔

ڈی ایکس بی نے پہلی سہ ماہی میں 1 کروڑ 76 لاکھ بیگز ہینڈل کیے، جن میں مارچ کے دوران 26 لاکھ بیگز شامل ہیں۔ بیگج ہینڈلنگ میں خرابی کی شرح فی ہزار مسافروں پر 3.5 رہی، جبکہ عالمی اوسط تقریباً 6.3 بیگز فی ہزار مسافر ہے۔