یو اے ای کا ایف اے او کے فیصلے کا خیرمقدم، عالمی غذائی تحفظ کے خلاف اقدامات کی مذمت

روم، 4 مئی، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی کونسل کے خصوصی اجلاس میں منظور کیے گئے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جو یو اے ای کی قیادت میں خلیجی ممالک اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے پیش کیا گیا۔ اس فیصلے میں ایران کی ان کارروائیوں کی مذمت کی گئی ہے جو عالمی غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

فیصلے میں آبنائے ہرمز میں ایران کی سرگرمیوں اور اہم تنصیبات، بشمول توانائی مراکز، ڈی سیلینیشن پلانٹس اور خوراک سے متعلق سہولیات کو نشانہ بنانے کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، جس کے باعث خلیجی خطے میں سپلائی چینز اور اہم بحری راستوں میں خلل پیدا ہوا۔

یہ فیصلہ یو اے ای، خلیجی تعاون کونسل کے ممالک، اردن، مصر، لبنان اور مراکش کی قیادت میں پیش کیا گیا اور متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ یو اے ای نے ایف اے او کے رکن ممالک، خصوصاً کونسل کے اراکین کی تعمیری شمولیت پر اظہارِ تشکر کیا۔

فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خوراک اور زرعی سپلائی چینز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ خوراک، کھاد اور زرعی اجناس کی محفوظ اور مسلسل فراہمی، اور کھلے و مؤثر تجارتی راستے عالمی منڈی کے استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔

فیصلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی توثیق کی گئی کہ ایران کے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کارروائیوں سے خوراک اور زرعی اجناس کی پیداوار، ترسیل اور فراہمی متاثر ہوتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں عدم استحکام اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔

وزارت خارجہ میں توانائی و پائیداری کے معاون وزیر عبداللہ بلالہ نے کہا کہ عالمی خوراک اور توانائی کی سپلائی چینز کی سلامتی کا انحصار اہم بحری راستوں کے تحفظ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں اور کمزور طبقات پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اجتماعی اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی قانون کی پاسداری، بحری آمدورفت کی آزادی اور ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔

فیصلے میں کھلے، محفوظ اور مؤثر تجارتی راستوں، خصوصاً بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور بحری آمدورفت کی آزادی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ خوراک، زرعی اجناس اور کھاد کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

اس کے علاوہ ایف اے او سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کی کارروائیوں کے عالمی غذائی تحفظ پر اثرات کی نگرانی کرے، بروقت معلومات اور وارننگ فراہم کرے، اور رکن ممالک کی درخواست پر ان کے زرعی نظام کو مضبوط بنانے میں معاونت کرے۔

یو اے ای نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی، 25 فیصد گیس، 70 فیصد پیٹروکیمیکل ضروریات اور تقریباً 30 فیصد کھاد کی ترسیل ہوتی ہے، جو عالمی خوراک کی پیداوار کے لیے انتہائی اہم ہے۔

یو اے ای نے عالمی تعاون کو فروغ دینے، غذائی نظام کے استحکام کو مضبوط بنانے اور ان تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا جو عالمی غذائی تحفظ اور بحری آمدورفت کی آزادی کو متاثر کرتی ہیں۔