متحدہ عرب امارات 6 مئی کو مسلح افواج کے اتحاد کی گولڈن جوبلی منائے گا

ابوظہبی، 5 مئی 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات بدھ کے روز اپنی مسلح افواج کے اتحاد کی 50ویں سالگرہ منائے گا، جس کے دوران ملک اپنی خودمختاری کے دفاع اور قومی کامیابیوں کے تحفظ میں گزشتہ پانچ دہائیوں کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرے گا۔

یہ موقع ایسے وقت پر آ رہا ہے جب اماراتی مسلح افواج نے حالیہ ایرانی جارحیت کا مؤثر مقابلہ کرتے ہوئے اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت اور مکمل تیاری کا مظاہرہ کیا، اور ملک کی سلامتی و استحکام کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا۔ اس دوران بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کو کامیابی سے روکنا جدید عسکری تاریخ کا ایک نمایاں کارنامہ قرار دیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج ایک واضح حکمت عملی کے تحت مسلسل پیش رفت کر رہی ہیں، جو ہمہ وقت تیاری اور کثیر الجہتی ردعمل کی صلاحیتوں پر مبنی ہے۔ عسکری ادارے نے زمینی، فضائی، بحری اور سائبر شعبوں کو ایک مربوط نظام میں یکجا کر کے جدید دفاعی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔

زمینی افواج کو دفاعی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، جو رفتار اور درست معلومات پر مبنی جدید حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہیں۔ جدید بکتر بند گاڑیاں، جدید توپ خانے اور زمینی نگرانی کے نظام ڈیجیٹل کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جس سے یونٹس کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ ممکن ہوتا ہے۔

فضائیہ ملک کی دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس کے جدید طیارے طویل فاصلے تک کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بری اور بحری افواج کو مؤثر معاونت فراہم کرتے ہیں۔ فضائی برتری کے نظام میں ابتدائی انتباہ، فضائی دفاع اور جدید کمانڈ مراکز شامل ہیں، جبکہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ تربیت کے ذریعے اماراتی پائلٹس کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

امارات کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر بحری سلامتی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ بحری افواج نے جدید کثیر المقاصد جہازوں، ساحلی نگرانی کے نظام اور بغیر عملے کے پلیٹ فارمز کے ذریعے جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔

قومی دفاعی صنعت کی ترقی بھی ایک اہم سنگ میل ہے، جہاں امارات نے صرف دفاعی سامان کی خریداری سے آگے بڑھتے ہوئے جدید نظاموں کی تیاری اور پیداوار میں شراکت داری شروع کر دی ہے۔

اگرچہ عسکری ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، تاہم انسانی عنصر بدستور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے ملک نے فوجی اور تعلیمی تربیت میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس میں قومی عسکری کالجز اور عالمی افواج کے ساتھ مشترکہ پروگرام شامل ہیں۔

اسی تناظر میں قومی سروس اور معاشرتی تیاری سے متعلق پالیسیوں نے دفاعی تصور کو مزید مضبوط بنایا ہے، جس کے تحت مسلح افواج کو معاشرے کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

قیامِ ریاست سے ہی قیادت نے خواتین کو قومی تعمیر اور دفاع میں اہم شراکت دار قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کو مسلح افواج میں شامل کیا گیا، جبکہ خولہ بنت الازور ملٹری اسکول خواتین کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

قومی سروس کا دائرہ کار خواتین تک بھی بڑھایا گیا ہے، جہاں اماراتی خواتین رضاکارانہ طور پر شامل ہو رہی ہیں اور بعض بیچز میں ان کی شرکت 11 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں، ریلیف آپریشنز اور ہنگامی حالات میں مدد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جو ملک کے عالمی انسانی ذمہ داریوں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔