ابوظہبی، 6 مئی 2026 (وام)--نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ عزت مآب لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان نے “میک اٹ اِن دی ایمریٹس 2026” کے پانچویں ایڈیشن کا دورہ کیا، جو 4 سے 7 مئی تک ابوظبی نیشنل ایگزیبیشن سینٹر (ایڈنیک) میں جاری ہے۔
اس سال ایونٹ میں 12 صنعتی شعبوں سے تعلق رکھنے والی 1,245 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی، جہاں تقریباً 5,000 مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری کے مواقع پیش کیے جا رہے ہیں۔ شریک اداروں میں 61 فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شامل ہیں، جبکہ اس پلیٹ فارم پر دنیا بھر سے 120,000 سے زائد سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور فیصلہ سازوں کی شرکت متوقع ہے۔
شیخ سیف بن زاید نے دورے کے دوران مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے مختلف پویلینز کا جائزہ لیا اور صنعتی شعبے کی ترقی اور عالمی مسابقت کو فروغ دینے کے اقدامات سے آگاہی حاصل کی۔
انہیں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خلا اور دفاع کے شعبوں میں جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی، جو علم پر مبنی اور مسابقتی صنعتی معیشت کے قیام کے لیے امارات کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس موقع پر مقامی پیداوار بڑھانے، قومی افرادی قوت کی ترقی اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے سے متعلق منصوبوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔
وزارتِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی کے پویلین میں شیخ سیف بن زاید نے اسٹارٹ اپ پلیٹ فارم، کوالٹی انفراسٹرکچر پلیٹ فارم، اسمارٹ انڈسٹریز فورم اور انڈسٹری سینٹر سمیت مختلف اقدامات کا جائزہ لیا، جو صنعتکاروں، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کو ایک مربوط نظام میں یکجا کرتے ہیں۔
انہوں نے ایونٹ کے میزبان شراکت دار ادنوک گروپ کے پویلین کے علاوہ نافکو، بلیو گلف گروپ، گلوبل فارما، برجیل ہولڈنگز اور انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی کے اسٹالز کا بھی دورہ کیا۔ آئی ایچ سی پویلین میں مائیکروپولِس روبوٹکس کے ساتھ مختلف شعبوں میں جدید منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
دورے کے دوران شیخ سیف نے ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کی کمپنی ڈسٹنٹ امیجری سلوشنز، نینو ٹیکنالوجی کمپنی “نانو”، جدید ٹیکنالوجی ادارہ “انٹیلیجنس” اور قابلِ تجدید توانائی کمپنی “نور نیشن” کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔
انہوں نے ایناٹا کمپنی کے اسٹال کا دورہ بھی کیا، جہاں خودکار نظام اور جدید ٹیکنالوجیز بشمول ڈرونز کی نمائش کی گئی۔ اس موقع پر ٹیینوس 150 جیسے جدید بغیر پائلٹ فضائی نظام کا بھی مشاہدہ کیا گیا، جو سیکیورٹی، نگرانی، لاجسٹکس، ماحولیاتی نگرانی اور صنعتی شعبوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔