ابوظہبی، 6 مئی 2026 (وام)--بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی (آیرینا) کی نئی رپورٹ کے مطابق شمسی اور ہوائی توانائی کو بیٹری اسٹوریج کے ساتھ ملا کر اب کم لاگت اور مسلسل بجلی کی فراہمی ممکن ہو گئی ہے، جو روایتی ایندھن کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موزوں شمسی اور ہوائی وسائل والے علاقوں میں یہ ہائبرڈ نظام چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی لاگت فوسل فیول سے کم ہے۔ شمسی توانائی کے ساتھ بیٹری اسٹوریج کی لاگت 54 سے 82 ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ کے درمیان ہے، جبکہ کوئلے اور گیس سے بجلی کی پیداوار اس سے زیادہ مہنگی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ حالیہ توانائی بحران نے فوسل فیول پر انحصار کی اصل قیمت کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی اب سستی، محفوظ اور قابلِ اعتماد متبادل بن چکی ہے۔
آیرینا کے ڈائریکٹر جنرل فرانسسکو لا کیمرا نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی اب مسلسل بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ تاثر درست نہیں رہا کہ یہ غیر مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کی منڈیاں جغرافیائی سیاسی حالات سے متاثر ہوتی ہیں، اس لیے معیشتوں کو مستحکم بنانے کے لیے قابلِ تجدید نظام اپنانا ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2010 سے اب تک شمسی توانائی کی لاگت میں 87 فیصد، ہوائی توانائی میں 55 فیصد اور بیٹری اسٹوریج میں 93 فیصد کمی آ چکی ہے، جبکہ منصوبوں کی تکمیل کا دورانیہ بھی کم ہو کر ایک سے دو سال رہ گیا ہے۔
آیرینا نے پیشگوئی کی ہے کہ 2030 تک لاگت میں مزید 30 فیصد اور 2035 تک 40 فیصد کمی متوقع ہے، جس سے بہترین مقامات پر بجلی کی لاگت 50 ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ سے بھی کم ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کے الظفرہ منصوبے کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جہاں شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کے ذریعے ایک گیگاواٹ صاف بجلی تقریباً 70 ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ کی لاگت سے فراہم کی جا رہی ہے۔
مزید برآں، ہوائی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کے مشترکہ نظام بھی تیزی سے مسابقتی ہو رہے ہیں، جبکہ شمسی اور ہوائی توانائی کو یکجا کرنے سے لاگت میں مزید کمی اور کارکردگی میں اضافہ ممکن ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جدید نظام نہ صرف توانائی کی مانگ کو پورا کرنے میں مددگار ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز جیسے شعبوں کے لیے بھی مسلسل بجلی کی فراہمی ممکن بناتے ہیں، جبکہ صاف ایندھن کی تیاری میں بھی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔