شیخ عبداللہ بن زاید اور قطری وزیر اعظم و وزیر خارجہ کی زاید نیشنل میوزیم میں یو اے ای۔قطر مشترکہ کمیٹی اجلاس کی مشترکہ صدارت

ابوظہبی، 6 مئی 2026 (وام)--نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے ابوظہبی میں زاید نیشنل میوزیم میں منعقدہ یو اے ای۔قطر مشترکہ اعلیٰ کمیٹی کے ساتویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔

اجلاس کے آغاز میں عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور ان کے ہمراہ وفد کا خیرمقدم کیا۔

اس موقع پر عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے کہاکہ، “میں آپ کو آپ کے وطن متحدہ عرب امارات میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ یو اے ای۔قطر مشترکہ اعلیٰ کمیٹی کے ساتویں اجلاس کا انعقاد ہمارے دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط اور تاریخی برادرانہ تعلقات اور بھائیوں کے درمیان تعاون و یکجہتی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔”

انہوں نے کہاکہ، “آج ہم صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور ان کے بھائی قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی قیادت اور ہدایات میں مشترکہ تعاون کے سفر کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کی عوام کی خواہشات پوری کی جا سکیں۔”

شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ خطہ اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے، جن کی وجہ انہوں نے “خلیجی ممالک اور عوام کے خلاف ایران کے مجرمانہ حملوں” کو قرار دیا، جن سے شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور سول تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی غیر قانونی بندش اور بین الاقوامی بحری سلامتی، غذائی تحفظ، توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے والے اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ ان حالات نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ یو اے ای اور قطر کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔

معاشی شعبے کے حوالے سے عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت کا حجم 2025 میں 13 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو اقتصادی تعلقات کی مضبوطی اور روشن امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مختلف شعبوں میں متحدہ عرب امارات کی قطر کے ساتھ شراکت داری کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

بین الاقوامی سطح پر عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے مختلف عالمی فورمز پر قطر کے تعمیری تعاون اور یو اے ای کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے 2026 میں سینیگال کے اشتراک سے اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس کی میزبانی کے لیے یو اے ای کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور اسے عالمی آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم سنگ میل قرار دیا، جبکہ اس کانفرنس میں قطر کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے تیل، گیس اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں اسٹریٹجک روابط اور اقتصادی انضمام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مشترکہ مفادات کا تحفظ، سپلائی چین کی مضبوطی اور تعاون و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے کہاکہ، “میرے بھائی شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی، ہمیں یقین ہے کہ اس اجلاس کے نتائج ہماری شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے اور دونوں برادر ممالک کے مشترکہ تعاون کے سفر کو نئی پیش رفت سے ہمکنار کریں گے۔ میں آپ اور آپ کے معزز وفد کے لیے آپ کے دوسرے وطن، متحدہ عرب امارات میں خوشگوار قیام کی خواہش کرتا ہوں، اور ہم ہمیشہ اپنی آئندہ ملاقاتوں کے منتظر رہتے ہیں۔”

دوسری جانب، شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دونوں ممالک اور عوام کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے مشترکہ اعلیٰ کمیٹی کے ساتویں اجلاس کی تیاری میں شامل کمیٹی اور تمام ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے ایک واضح لائحہ عمل تشکیل دینے اور اجلاس کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس گزشتہ اجلاسوں کا تسلسل ہے، جن کا مقصد مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانا، حاصل شدہ کامیابیوں کا جائزہ لینا اور دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے کو درپیش حساس حالات کے تناظر میں یہ اجلاس علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کا اہم موقع بھی ثابت ہوا۔

شیخ محمد بن عبدالرحمن نے خلیجی خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال، غیر معمولی واقعات، آبنائے ہرمز کے بحران اور خلیجی ممالک کے خلاف ایران کے وحشیانہ فوجی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت علاقائی استحکام اور بحری آزادی کو متاثر کرنے والے غیر معمولی سیکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ مرحلے کی حساسیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مشاورت کو مزید مضبوط بنایا جائے، مشترکہ مؤقف اختیار کیے جائیں اور خطرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششوں میں اضافہ کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان مزید ہم آہنگی اور انضمام کی متقاضی ہے تاکہ چیلنجز پر قابو پا کر خطے میں سلامتی، امن اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیخ محمد نے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں اس اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون مشترکہ مفادات کے حصول میں معاون ثابت ہوگا، اور اس عمل کو دونوں ممالک کی دانشمند قیادت کی مکمل حمایت اور رہنمائی حاصل ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ دوطرفہ شراکت داری مزید مضبوط ہو اور دونوں ممالک کی عوام کی خواہشات پوری کی جا سکیں۔

مشترکہ اعلیٰ کمیٹی کے اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے وسیع پیمانے پر شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، ثقافت، ماحولیات، صحت، کھیل، اسلامی امور و اوقاف، صنعت، ٹرانسپورٹ اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے یو اے ای۔قطر مشترکہ اعلیٰ کمیٹی کے ساتویں اجلاس کے منٹس پر دستخط کیے۔

دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے، جن میں سرمایہ کاری کے تحفظ اور فروغ سے متعلق معاہدہ شامل ہے، جس پر یو اے ای کی جانب سے وزیر مملکت برائے مالی امور محمد بن ہادی الحسینی اور قطر کی جانب سے وزیر تجارت و صنعت شیخ فیصل بن ثانی آل ثانی نے دستخط کیے۔

زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر یو اے ای کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کی وزیر ڈاکٹر آمنہ بنت عبداللہ الضحاک اور قطر کی جانب سے وزیر مملکت برائے خارجہ امور سلطان بن سعد بن سلطان المریخی نے دستخط کیے۔

اسی طرح ابوظہبی کے محکمہ بلدیات و ٹرانسپورٹ اور قطر کی وزارت بلدیات کے تحت دوحہ میونسپلٹی کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر یو اے ای کی جانب سے محکمہ بلدیات و ٹرانسپورٹ کے چیئرمین محمد علی الشرفا اور قطر کی جانب سے سلطان بن سعد المریخی نے دستخط کیے۔

اسی تناظر میں عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے ساتھ مشترکہ ملاقات بھی کی، جس میں یو اے ای اور قطر کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون و شراکت داری کے فروغ کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ دونوں ممالک کے مفادات کا تحفظ اور عوام کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور متحدہ عرب امارات میں شہری مقامات اور تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے والے ایران کے بلا اشتعال دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات کو اپنی خودمختاری، قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور شہریوں، رہائشیوں اور مہمانوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان حملوں کا جواب دینے کا مکمل اور جائز حق حاصل ہے۔

ملاقات کے دوران عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے ایرانی دہشت گردانہ جارحیت کے بعد قطر کی جانب سے یو اے ای کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار پر شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کا شکریہ ادا کیا۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے مالی امور محمد بن ہادی الحسینی، وزیر برائے سماجی ترقی شما بنت سہیل المزروعی، موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کی وزیر ڈاکٹر آمنہ بنت عبداللہ الضحاک، وزیر مملکت خلیفہ شاہین المرر، وزیر مملکت سعید بن مبارک الہاجری، محکمہ بلدیات و ٹرانسپورٹ کے چیئرمین محمد علی الشرفا اور نائب وزیر مملکت شیخ نہیان بن سیف بن محمد النہیان نے شرکت کی۔