متحدہ عرب امارات صدر اور قطر کے وزیر اعظم کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

ابوظہبی، 7 مئی 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان سے قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے ملاقات کی۔

ملاقات کے آغاز میں قطری وزیر اعظم نے قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی جانب سے امارات کے صدر کے لیے نیک تمناؤں اور متحدہ عرب امارات کی مزید ترقی و خوشحالی کے پیغام پہنچائے۔ اس موقع پر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے بھی عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے قطر اور اس کی عوام کے لیے مزید ترقی اور خوشحالی کی دعا کی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے برادرانہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا تاکہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

فریقین نے خطے کی تازہ صورتحال اور اس کے علاقائی و عالمی امن و استحکام پر سنگین اثرات کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے متحدہ عرب امارات میں شہریوں اور سول مقامات کو نشانہ بنانے والے ایرانی دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے یو اے ای کے ساتھ قطر کی مکمل یکجہتی اور اس کی خودمختاری، سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا۔

ملاقات میں نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی دیوان کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان، ابوظہبی کے ولی عہد عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان، ابوظیبی کے نائب حکمران اور قومی سلامتی کے مشیر عزت مآب شیخ طحنون بن زاید النہیان، الظفرہ ریجن میں حکمران کے نمائندے عزت مآب شیخ حمدان بن زاید النہیان، نائب وزیر اعظم و وزیر داخلہ عزت مآب لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان، عزت مآب شیخ حامد بن زاید النہیان، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان، صدارتی دیوان برائے ترقی و شہداء امور کے نائب چیئرمین عزت مآب شیخ ذیاب بن محمد بن زاید النہیان، صدارتی دیوان برائے خصوصی امور کے نائب چیئرمین عزت مآب شیخ حمدان بن محمد بن زاید النہیان، وزیر برائے رواداری و بقائے باہمی شیخ نہیان بن مبارک النہیان، متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر شیخ محمد بن حمد بن طحنون النہیان سمیت متعدد شیوخ، وزراء اور اعلیٰ حکام شریک تھے۔