دبئی، 7 مئی، 2026 (وام)--وزارتِ انسانی وسائل و ایمریٹائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ نجی شعبے کے وہ ادارے جن میں 50 یا اس سے زائد ملازمین ہیں، انہیں 2026 کی پہلی ششماہی کے لیے اپنے ایمریٹائزیشن اہداف 30 جون تک مکمل کرنا ہوں گے۔
وزارت کے مطابق کمپنیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ سال کے پہلے چھ ماہ میں ہنر مند ملازمتوں میں ایمریٹائزیشن کی شرح میں کم از کم ایک فیصد اضافہ کریں۔ پالیسی کے تحت سال کی دوسری ششماہی میں مزید ایک فیصد اضافہ بھی ضروری ہوگا، جس کے بعد مجموعی شرح 2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
وزارت نے واضح کیا کہ یکم جولائی 2026 سے ان اداروں پر مالی جرمانے عائد کیے جائیں گے جو مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔
وزارت نے نجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ڈیڈ لائن کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر اقدامات تیز کریں اور “نفیس” پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمت کے خواہشمند اماراتی شہریوں سے رابطہ قائم کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ صدرعزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایات کے تحت نفیس پروگرام کو 2040 تک توسیع دی گئی ہے، جس کا مقصد اماراتی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ پروگرام میں بچوں کے الاؤنس میں اضافہ اور مالی معاونت کی مدت میں توسیع جیسے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
پریس کو جاری کردہ ایک بیان میں وزارت نے ایمریٹائزیشن پالیسی پر نجی شعبے کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ قومی ذمہ داری کے شعور اور ملکی معیشت کی حمایت کا مظہر ہے، جبکہ اس سے اماراتی شہریوں کو لیبر مارکیٹ میں بااختیار بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے نظام کے ذریعے جعلی ایمریٹائزیشن جیسے منفی طریقوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے، اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں ان کی درجہ بندی میں کمی اور اصلاحی اقدامات شامل ہیں۔
وزارت نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایمریٹائزیشن پالیسیوں کے خلاف کسی بھی خلاف ورزی یا بے ضابطگی کی اطلاع دیں، جس کے لیے 600590000 پر کال سینٹر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے یا وزارت کی اسمارٹ ایپ اور ویب سائٹ کے ذریعے رپورٹ کیا جا سکتا ہے، جہاں رازداری اور فوری ردعمل کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
وزارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قواعد کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی، خواہ وہ “نفیس” پروگرام کے تحت دستیاب سہولیات ہوں یا ان کمپنیوں کے لیے اضافی مسابقتی مراعات اور فوائد جو ایمریٹائزیشن کے میدان میں نمایاں نتائج حاصل کریں۔
ان فوائد میں ایسی کمپنیوں کو “ایمریٹائزیشن پارٹنرز کلب” کی رکنیت دینا شامل ہے، جس کے تحت انہیں وزارتِ انسانی وسائل و ایمریٹائزیشن کی سروس فیس میں 80 فیصد تک مالی رعایت حاصل ہوتی ہے، جبکہ سرکاری خریداری کے نظام میں ترجیحی حیثیت بھی دی جاتی ہے، جس سے ان کے کاروباری ترقی کے مواقع مزید بڑھتے ہیں۔
کلب کے اراکین کو دیگر نمایاں مراعات بھی فراہم کی جاتی ہیں، جن کا مقصد انہیں یو اے ای کی مختلف شعبوں میں تیزی سے ترقی کرتی لیبر مارکیٹ سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ہے۔