ابوظہبی، 12 مئی 2026 (وام)--ادنوک گیس پی ایل سی نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 1.1 ارب امریکی ڈالر خالص منافع ریکارڈ کرتے ہوئے مضبوط مالی اور آپریشنل کارکردگی برقرار رکھی ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو درپیش رکاوٹوں کے باوجود کمپنی نے مقامی توانائی سپلائی کا تسلسل یقینی بنایا۔
کمپنی نے کہا کہ اس دوران مقامی صارفین کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا گیا، جبکہ لاجسٹکس، سپلائی چین اور ذخائر کے مؤثر انتظام کے ذریعے برآمدی چیلنجز کے اثرات کو محدود رکھا گیا۔
ادنوک گیس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر فاطمہ النعیمی نے کہا کہ پہلی سہ ماہی غیر معمولی بیرونی چیلنجز سے متاثر رہی، تاہم کمپنی کی توجہ افرادی قوت اور اثاثوں کے تحفظ، مقامی توانائی فراہمی کے تسلسل اور حصص یافتگان کے مفادات کے تحفظ پر مرکوز رہی۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی کے نتائج اس کی مضبوط کاروباری بنیادوں، منظم مالی نظم و نسق اور مؤثر لاگت کنٹرول کی عکاسی کرتے ہیں۔
فاطمہ النعیمی کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت میں رکاوٹوں کے باوجود ادنوک گیس کی طویل مدتی ترقیاتی حکمتِ عملی بدستور مستحکم ہے، جبکہ یو اے ای میں صنعتی توسیع اور مقامی طلب میں اضافہ کمپنی کے مستقبل کے حوالے سے اعتماد کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
کمپنی نے پہلی سہ ماہی کے دوران 572 ملین ڈالر فری کیش فلو حاصل کیا، جبکہ سہ ماہی کے اختتام تک اس کے پاس 4.2 ارب ڈالر نقد ذخائر موجود تھے۔
ادنوک گیس نے 2030 تک سالانہ 5 فیصد منافع بڑھانے کی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے جون 2026 میں 941 ملین ڈالر سہ ماہی منافع تقسیم کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔
کمپنی نے واضح کیا کہ 2023 سے 2029 کے درمیان ای بی آئی ٹی ڈی اے میں 40 فیصد سے زائد اضافے کا ہدف برقرار ہے، جبکہ یو اے ای میں صنعتی اور مقامی شعبوں کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کمپنی کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
بیان کے مطابق “میک اٹ اِن دی ایمریٹس” اقدام کے تحت مقامی مینوفیکچرنگ میں ادنوک کی 55 ارب ڈالر سرمایہ کاری اور “تعزیز” کا 5 ارب ڈالر سپلائی معاہدہ اس بڑھتی طلب کی نمایاں مثالیں ہیں۔
ادنوک گیس نے انکشاف کیا کہ حبشان سائٹ پر 3 اور 8 اپریل کو دو سیکیورٹی واقعات پیش آئے تھے، جس کے بعد فوری طور پر ہنگامی ردعمل اور آپریشنل تسلسل کے منصوبے فعال کیے گئے۔
کمپنی کے مطابق آپریشنل ٹیموں نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مختصر وقت میں کمپلیکس کی 60 فیصد پیداواری صلاحیت بحال کر دی، جبکہ 2026 کے اختتام تک 80 فیصد بحالی اور 2027 میں مکمل آپریشنل استعداد بحال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان واقعات کے تکنیکی اثرات سے متعلق تفصیلی جائزہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔