پٹرول مہنگا ہونے سے الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی مانگ میں اضافہ

لندن، 13 مئی، 2026 (وام) -- دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اپریل کے دوران مسلسل دوسرے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ پٹرول کی بڑھتی قیمتیں خریداروں کو روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں سے دور کر رہی ہیں۔

کنسلٹنسی ادارے بینچ مارک منرل انٹیلیجنس (BMI) کے مطابق بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی نئی رجسٹریشنز اپریل میں سالانہ بنیاد پر 6 فیصد بڑھ کر 16 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئیں، جو فروخت کا اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم مارچ کے ریکارڈ اضافے کے مقابلے میں اپریل میں یہ تعداد 9 فیصد کم رہی۔

رائٹرز کے مطابق بی ایم آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومتی مراعات، پٹرول کی بلند قیمتیں اور چینی آٹو ساز کمپنیوں کی بڑھتی موجودگی الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔

یورپ میں اپریل کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشنز 27 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 4 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئیں۔ ایک حالیہ مطالعے کے مطابق یورپی اکنامک ایریا اور سوئٹزرلینڈ کے ممالک نے الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کے فروغ کے لیے تقریباً 200 ارب یورو (235 ارب امریکی ڈالر) مختص کیے ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر صورتحال یکساں نہیں رہی۔

چین میں اپریل کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشنز سالانہ بنیاد پر 8 فیصد کم ہوکر تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار یونٹس رہ گئیں، جس کی وجہ گاڑیوں کے تبادلے پر دی جانے والی حکومتی سہولتوں کا خاتمہ اور الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر ٹیکس رعایت کا ختم ہونا بتایا گیا ہے۔

شمالی امریکا میں اپریل کے دوران رجسٹریشنز 28 فیصد کمی کے ساتھ ایک لاکھ 20 ہزار یونٹس تک آگئیں۔ اس کی وجہ امریکا میں ٹیکس کریڈٹ اسکیم کا خاتمہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کے قوانین میں مزید نرمی کی تجاویز قرار دی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب میکسیکو میں رواں سال الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کینیڈا میں 7 فیصد کمی کے باوجود نئی مراعاتی اسکیم کے بعد فروخت میں بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔