یو اے ای اور جنوبی کوریا کے درمیان مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

سیول، 13 مئی، 2026 (وام) --وزارتِ سرمایہ کاری نے متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی جنوبی کوریا کے دورے کی قیادت کی، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سیمی کنڈکٹر شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا اور نئی شراکت داریوں کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ یہ اقدام یو اے ای کی اقتصادی تنوع کی حکمت عملی اور مستقبل کی اہم صنعتوں پر توجہ کا حصہ ہے۔

وفد کی قیادت وزارتِ سرمایہ کاری کے انڈر سیکریٹری محمد عبدالرحمن الحاوی نے کی، جبکہ جنوبی کوریا میں یو اے ای کے سفیر عبداللہ سیف النعیمی بھی وفد میں شامل تھے۔ اس دورے میں یو اے ای کے ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری شعبوں کی نمایاں شخصیات اور اداروں نے شرکت کی، جن میں قومی اے آئی کمپنیاں کور42 اور ایم جی ایکس، ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ریسرچ کونسل (اے ٹی آر سی)، ٹیکنالوجی انوویشن انسٹیٹیوٹ (ٹی آئی آئی)، مبادلہ اور ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے ڈی آئی اے) شامل ہیں۔

وفد نے “کوریا-یو اے ای اے آئی انفراسٹرکچر اینڈ سیمی کنڈکٹر انویسٹمنٹ کوآپریشن فورم” میں شرکت کی، جس کا انعقاد جنوبی کوریا کی وزارتِ سائنس و آئی سی ٹی، وزارتِ تجارت، صنعت و وسائل اور صدارتی قومی اے آئی حکمتِ عملی کونسل نے مشترکہ طور پر کیا۔

یہ فورم نومبر 2025 میں یو اے ای کے سرکاری دورے کے دوران قائم کیے گئے مشترکہ ورکنگ گروپ کے تحت منعقد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے سرکاری اور نجی اداروں نے اے آئی انفراسٹرکچر، ماڈلز اور خدمات کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے ایجنڈے پر تبادلۂ خیال کیا۔

اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی قومی اے آئی حکمتِ عملیوں اور ان پر عملدرآمد کی صلاحیتوں کو سراہا اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مقابلے کے تناظر میں اے آئی نظام کی ترقی کے لیے منظم تعاون کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

محمد عبدالرحمن الحاوی نے بعد ازاں ایک اعلیٰ سطحی پینل مباحثے میں شرکت کی، جس میں دونوں معیشتوں کی مشترکہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے عملی ماڈلز پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر جنوبی کوریائی کمپنیوں نے اے آئی سیمی کنڈکٹرز، انفراسٹرکچر اور اے آئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی تجاویز بھی پیش کیں۔

دورے کے دوران وفد نے جنوبی کوریا کی جدید ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر تنصیبات کا بھی دورہ کیا، تاکہ مصنوعی ذہانت کی سپلائی چین میں تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ یو اے ای اس وقت خود کو عالمی اے آئی مرکز کے طور پر منوانے اور بڑے پیمانے پر اے آئی انفراسٹرکچر قائم کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔

محمد عبدالرحمن الحاوی نے کہا کہ یو اے ای اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات مستقبل کی صنعتوں میں قیادت کے مشترکہ وژن پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2023 میں جنوبی کوریا میں یو اے ای کی جانب سے 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے سرمایہ کاری تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق توانائی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے اس شراکت داری کی مضبوطی کا ثبوت ہیں، جن میں ابوظبی کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر میں جنوبی کوریا کا کردار اور یو اے ای کے “اسٹار گیٹ” اے آئی ڈیٹا سینٹر کیمپس میں اس کی شمولیت شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ٹھوس نتائج کی عکاسی کرتے ہیں اور موجودہ دورہ مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چین میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ سائنس و آئی سی ٹی کے نائب وزیر ریو جے میونگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں حقیقی مسابقت پورے اے آئی نظام کی مضبوطی سے حاصل ہوتی ہے، جہاں سیمی کنڈکٹرز، ڈیٹا سینٹرز، ماڈلز اور خدمات ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کی تکنیکی صلاحیتوں اور یو اے ای کی سرمایہ کاری کی طاقت اور عالمی اے آئی منڈیوں سے رابطے کی اسٹریٹجک حیثیت کو یکجا کر کے دونوں ممالک کم توانائی خرچ کرنے والے اور مؤثر اے آئی ڈیٹا سینٹرز سمیت عملی تعاون کے ایسے ماڈلز تیار کریں گے جو ٹھوس نتائج فراہم کریں۔

یہ دورہ قومی ترجیحی شعبوں میں عالمی تعاون بڑھانے اور یو اے ای کو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے نمایاں مرکز کے طور پر مستحکم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔