ڈبلیو ایچ او: کروز شپ پر پھیلا ہینٹا وائرس اینڈیز ویرینٹ، 3 اموات، 27 فیصد شرح اموات

جنیوا، 14 مئی، 2026 (وام) -- عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمعرات کے روز تصدیق کی ہے کہ کروز شپ “ایم وی ہونڈیئس” میں پھیلنے والا ہینٹا وائرس “اینڈیز” ویرینٹ ہے، جو انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے 14 مئی کو جاری بیان کے مطابق جہاز سے منسلک متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 11 ہو گئی ہے، جن میں 8 لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز، 2 مشتبہ کیسز اور ایک غیر حتمی کیس شامل ہے، جس کی امریکا میں نگرانی کی جا رہی ہے۔

ادارے کے مطابق اس وبا کے نتیجے میں اب تک 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ شرحِ اموات تقریباً 27 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ صحت حکام کا کہنا ہے کہ تمام معلوم متاثرہ افراد کروز شپ میں سوار تھے۔

عموماً ہینٹا وائرس متاثرہ چوہوں یا ان کے فضلے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، تاہم جنوبی امریکا میں پایا جانے والا “اینڈیز” ویرینٹ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ قریبی رابطے کے ذریعے انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی بحری اور صحت حکام کے ساتھ مل کر جہاز سے اترنے والے مسافروں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادارے کے مطابق اگرچہ اس وائرس میں شرحِ اموات زیادہ ہے، تاہم ابتدائی وبائی تحقیقات مکمل ہونے تک عالمی سطح پر خطرے کی مجموعی صورتحال کو فی الحال کم قرار دیا جا رہا ہے۔