سیول، 14 مئی، 2026 (وام) -- مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجیز اور سیمی کنڈکٹرز کی عالمی مانگ میں اضافے کے باعث جنوبی کوریا کی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) برآمدات میں اپریل کے دوران غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ سائنس و آئی سی ٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں آئی سی ٹی مصنوعات کی برآمدات سالانہ بنیاد پر 125.9 فیصد بڑھ کر 42.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔
وزارت کے مطابق شرح کے اعتبار سے یہ اب تک کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے، جبکہ مالیت کے لحاظ سے یہ دوسری بلند ترین برآمدی سطح ہے، جب سے متعلقہ اعداد و شمار مرتب کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب درآمدات میں بھی 33.3 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 16.2 ارب ڈالر رہا، جس کے نتیجے میں شعبے کا تجارتی سرپلس 26.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ اپریل کے دوران جنوبی کوریا کی مجموعی برآمدات 85.9 ارب ڈالر رہیں، جن میں آئی سی ٹی شعبے کا حصہ تقریباً نصف یعنی 49.7 فیصد تھا، جو ملکی اقتصادی ترقی میں اس شعبے کے کلیدی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
مصنوعات کے اعتبار سے سیمی کنڈکٹر برآمدات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 173.3 فیصد بڑھ کر 31.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
وزارت کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کے باعث میموری چِپس کی طلب بدستور زیادہ رہی، جس نے سیمی کنڈکٹر برآمدات میں نمایاں اضافے کو تقویت دی۔