یو اے ای۔ویتنام تعلقات میں پیش رفت، تجارت اور ٹیکنالوجی تعاون کے فروغ پر اتفاق

ابوظہبی، 14 مئی، 2026 (وام) -- معاون وزیرِ خارجہ برائے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی عمران شرف اور سوشلسٹ جمہوریہ ویتنام کی نائب وزیر برائے صنعت و تجارت فان تھی تھانگ نے متحدہ عرب امارات اور ویتنام کے درمیان مشترکہ کمیٹی کے چھٹے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی، جو ابوظہبی میں منعقد ہوا۔

اجلاس کے آغاز میں دونوں فریقوں نے دوطرفہ رابطوں اور تعاون کی سطح کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں دوست ممالک اور عوام کے مشترکہ مفادات کے تحت تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں 12 ذیلی کمیٹیوں کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا، جن میں خارجہ امور، دفاع و سلامتی، سائنس و ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، توانائی، ثقافت و سیاحت، تعلیم، غذائی تحفظ و زراعت، تجارت و سرمایہ کاری، صحت، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس شامل ہیں۔

اجلاس میں ہونے والی گفتگو نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے دائرہ کار کو اجاگر کیا اور مختلف ترقیاتی و اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کی۔

عمران شرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ متحدہ عرب امارات اور ویتنام کے تعلقات مختلف شعبوں میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں، جبکہ مشترکہ کمیٹی دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک و عوام کی مشترکہ خواہشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ کمیٹی کا انعقاد دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات اور سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، تکنیکی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔

ویتنام کی نائب وزیر فان تھی تھانگ نے بھی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور تعلقات کی رفتار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کمیٹی باہمی مکالمے، رابطہ کاری اور بالخصوص اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے پائیدار ترقی کے فروغ اور دونوں ممالک و عوام کے مفادات کے حصول کیلئے مشترکہ کامیابیوں کو مزید آگے بڑھانے کے ویتنام کے عزم کا اعادہ کیا۔

حالیہ برسوں کے دوران یو اے ای اور ویتنام کے تعلقات، خصوصاً اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ ویتنام جنوب مشرقی ایشیا میں یو اے ای کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہو چکا ہے۔

اس موقع پر دونوں فریقوں نے 3 فروری 2026 سے نافذ ہونے والے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں اہم سنگ میل قرار دیا۔

دونوں جانب سے کہا گیا کہ یہ معاہدہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ساتھ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔