واشنگٹن، 15 مئی، 2026 (وام) -- معاون وزیرِ خارجہ برائے جدید سائنس و ٹیکنالوجی عمران شرف نے اہم، ابھرتی ہوئی اور جدید ٹیکنالوجیز میں تعاون کو فروغ دینے اور نئے اقتصادی مواقع پر تبادلۂ خیال کیلئے متحدہ عرب امارات کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے امریکا کا دورہ کیا۔
دورے کے دوران عمران شرف نے واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ “اے آئی ایکسپو” میں دو پینل مباحثوں میں شرکت کی، جبکہ وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی (او ایس ٹی پی) کے ڈائریکٹر مائیکل کراٹسیوس، امریکا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ایتھن کلائن، اور اقتصادی امور کیلئے امریکی نائب وزیرِ خارجہ جیکب ہیلبرگ سے ملاقاتیں بھی کیں۔
اے آئی ایکسپو میں عالمی صنعتوں کے رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق جدید ٹیکنالوجی اور پالیسی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس موقع پر عمران شرف نے نمائش میں شریک شرکا کے سامنے جدید سیمی کنڈکٹرز تک رسائی کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کی کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ اس تقریب میں امریکا میں یو اے ای کے سفیر یوسف العتیبہ بھی شریک تھے۔
عمران شرف نے ٹیکنالوجی صنعت اور تحقیقی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہم پیش رفت پر گفتگو کی گئی۔
انہوں نے ان ملاقاتوں کے دوران کہا کہ متحدہ عرب امارات اور امریکا کے درمیان دیرینہ شراکت داری مستقبل پر مبنی وژن، جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور سرمایہ کاری کے عزم پر استوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی شراکت داری کے نتیجے میں 5 گیگا واٹ یو اے ای۔امریکا مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کلسٹر کا آغاز کیا گیا، جو امریکا سے باہر اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تنصیب ہے۔
ان کے مطابق یہ منصوبہ جدید تحقیق کو فروغ دینے اور مشترکہ تکنیکی اہداف کے ذریعے پائیدار ترقی کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
عمران شرف نے مزید بتایا کہ آئندہ دہائی کے دوران یو اے ای کے سرمایہ کاری ادارے امریکا میں 1.4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، جس سے ترقی کی رفتار تیز، اختراع کو فروغ اور دونوں ممالک میں سائنسی کامیابیوں کی راہ ہموار ہوگی۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات ایک کھلی، ذمہ دار اور پرکشش سرمایہ کاری و اقتصادی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھنے اور قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر کام جاری رکھنے کیلئے پُرعزم ہے۔
عمران شرف نے کہا کہ یو اے ای امریکا کے ساتھ مل کر ایسے اقتصادی ماحول کے قیام کیلئے کام جاری رکھے گا جو متحرک، جامع اور طویل المدتی ترقی کیلئے سازگار ہو۔