ابوظہبی، 15 مئی، 2026 (وام) -- مبادلہ انرجی نے اعلان کیا ہے کہ “کیٹورس ایل ایل سی” نے اپنے “کامن ویلتھ ایل این جی” منصوبے کیلئے حتمی سرمایہ کاری فیصلہ (FID) کر لیا ہے، جس کے تحت امریکی ریاست لوئیزیانا کے کیمرون پیرش میں قائم کیے جانے والے 9.5 ملین ٹن سالانہ پیداواری صلاحیت کے حامل مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمدی منصوبے کیلئے 9.75 ارب ڈالر کی فنانسنگ کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے۔
حتمی سرمایہ کاری فیصلہ منصوبے کی مکمل تعمیر کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے اور اسے امریکا کے کم لاگت اور زیادہ مؤثر ایل این جی منصوبوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سرمایہ کاری معاہدے میں ایکویٹی اور قرض فراہم کرنے والے سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی سرمایہ کاری وعدے 21.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
کمرج کے منیجنگ پارٹنر اور کامن ویلتھ ایل این جی کے چیئرمین بین ڈیل نے کہا کہ یہ پیش رفت کئی برسوں کی حکمت عملی، مضبوط شراکت داریوں اور “ویل ہیڈ ٹو واٹر” مربوط منصوبے کے وژن کی تکمیل کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کیلئے طویل المدتی ایل این جی خریداری معاہدے عالمی توانائی اور صنعتی کمپنیوں، جن میں ای کیو ٹی، گلینکور، مرکوریا، پیٹروناس اور آرامکو ٹریڈنگ شامل ہیں، کے ساتھ طے پا چکے ہیں۔
منصوبے کے پہلے مرحلے سے 2030 میں آپریشنز شروع ہونے کے بعد سالانہ 3 ارب ڈالر سے زائد برآمدی آمدن متوقع ہے۔
مبادلہ انرجی، جو پہلے ہی “کیٹورس” پلیٹ فارم میں 24.1 فیصد حصص رکھتی ہے، منصوبے کی مالیاتی سرمایہ کاری میں بھی بطور شراکت دار شامل ہے۔
مبادلہ انرجی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر منصور محمد الحمد نے کہا کہ یہ اعلان کامن ویلتھ ایل این جی منصوبے کیلئے ایک اہم سنگِ میل ہے اور مربوط “ویل ہیڈ ٹو واٹر” حکمت عملی کو عملی شکل دینے کی جانب فیصلہ کن پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری مبادلہ انرجی کے عالمی گیس پورٹ فولیو کو مزید مضبوط بنائے گی اور کمپنی کی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی کو تقویت فراہم کرے گی۔
کینیڈا پینشن پلان انویسٹمنٹ بورڈ (CPP Investments) بھی منصوبے میں 1.2 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کرے گا، جس کے بعد “کیٹورس” پلیٹ فارم میں اس کا مجموعی حصہ 31 فیصد ہو جائے گا۔
سی پی پی انویسٹمنٹس کے منیجنگ ڈائریکٹر بل راجرز نے کہا کہ “کیٹورس” قدرتی گیس کی پیداوار اور ایل این جی برآمدات کے مربوط ماڈل کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور مستقبل میں توانائی کے مستحکم اور قابلِ اعتماد نظام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
منصوبے کے دیگر بڑے مالی شراکت داروں میں ای او سی پارٹنرز، بلیک راک کے زیر انتظام فنڈز اور ایریس انفراسٹرکچر اپرچیونٹیز فنڈ شامل ہیں۔
“کیٹورس” اس سے قبل منصوبے کے انجینئرنگ، خریداری اور تعمیراتی شراکت دار “ٹیکنیپ انرجیز” کو اہم مشینری کی خریداری کی منظوری بھی دے چکی ہے۔
منصوبے میں جدید کمپریسرز، کرائیوجینک ہیٹ ایکسچینجرز اور گیس ٹربائن جنریٹرز نصب کیے جائیں گے، جبکہ یہ تنصیب 216 ہزار مکعب میٹر تک گنجائش رکھنے والے ایل این جی بحری جہازوں کو لوڈ کرنے کی صلاحیت بھی رکھے گی۔
کیٹورس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ لالر نے کہا کہ عالمی سطح پر قدرتی گیس کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور کمپنی اس شعبے میں ایک نمایاں اور مربوط عالمی ادارے کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 'کامن ویلتھ ایل این جی' منصوبہ عالمی توانائی مارکیٹ کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے کیلئے کیٹورس کی مربوط قدرتی گیس حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہے۔