یو اے ای کی براکہ نیوکلیئر پلانٹ کے قریب دہشت گرد ڈرون حملے کی شدید مذمت

ابوظہبی، 17 مئی، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات نے الظفرہ ریجن میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی حفاظتی حصار سے باہر برقی جنریٹر کو نشانہ بنانے والے بلااشتعال دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ حملہ ایک ڈرون کے ذریعے کیا گیا جو ملک کی مغربی سرحدی سمت سے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی تابکاری تحفظ کی سطح متاثر ہوئی۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملے خطرناک اشتعال انگیزی، ناقابلِ قبول جارحیت اور ملک کی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پرامن مقاصد کیلئے قائم نیوکلیئر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی قوانین کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس طرح کے اقدامات شہریوں، ماحولیات اور علاقائی و عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

وزارت نے مزید کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے اصولوں اور متعلقہ قراردادوں سمیت تمام بین الاقوامی معاہدے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پرامن نیوکلیئر تنصیبات کو ہر قسم کی معاندانہ کارروائی یا فوجی خطرات سے محفوظ رکھا جانا ضروری ہے۔

متحدہ عرب امارات نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی صورت اپنی سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا، اور ملک اپنی خودمختاری، قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور شہریوں، رہائشیوں و زائرین کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام قانونی، سفارتی اور عسکری حقوق محفوظ رکھتا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اہم اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا تمام قانونی اور انسانی اصولوں کے تحت مکمل طور پر قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے۔

بیان میں بلااشتعال حملوں کو فوری طور پر روکنے اور تمام دشمنانہ کارروائیوں کے خاتمے کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔