شیخ عبداللہ بن زاید کے عرب وزرائے خارجہ سے رابطے، براکہ پلانٹ کے قریب دہشت گرد حملے کی شدید مذمت

ابوظہبی، 17 مئی، 2026 (وام) -- نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے برادر ممالک کے متعدد وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر رابطے کیے، جن میں الظفرہ ریجن میں واقع براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ کے اندرونی حفاظتی حصار سے باہر برقی جنریٹر کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد حملے کے اثرات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یہ حملہ ایک ڈرون کے ذریعے کیا گیا جو ملک کی مغربی سرحدی سمت سے یو اے ای کی حدود میں داخل ہوا تھا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی تابکاری تحفظ کی سطح متاثر ہوئی۔

شیخ عبداللہ بن زاید نے قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی، اردن کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ ایمن الصفدی، سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح، مراکش کے وزیرِ خارجہ ناصر بوریطہ، مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی، اور بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے گفتگو کی۔

شیخ عبداللہ بن زاید اور عرب وزرائے خارجہ نے اس مجرمانہ دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قانون و اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس سے شہریوں، ماحولیات اور علاقائی و عالمی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

فریقین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی خودمختاری، قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور شہریوں، رہائشیوں و زائرین کے تحفظ کیلئے ان حملوں کا مؤثر جواب دینے کا مکمل اور جائز حق حاصل ہے۔

اس موقع پر شیخ عبداللہ بن زاید نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ برادر ممالک کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں تمام رہائشی اور زائرین محفوظ ہیں۔

ٹیلیفونک رابطوں میں خطے میں پائیدار امن کے قیام، علاقائی سلامتی و استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔