طبی اختراعات اور جدید علاج میں یو اے ای کی عالمی قیادت مزید مستحکم

ابوظہبی، 18 مئی، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات جدید ادویات اور اختراعی طبی علاج اپنانے میں اپنی عالمی قیادت کو مزید مستحکم کر رہا ہے، جس کا مقصد مریضوں کی نگہداشت کو بہتر بنانا اور پیچیدہ بیماریوں کیلئے جدید علاج کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

رواں سال کے دوران یو اے ای نے طبی اختراع اور جدید علاجی تجربات کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کی ہے، جو عوامی صحت کے فروغ اور صحت کے شعبے کی مسلسل ترقی سے متعلق ملک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ایمریٹس ڈرگ اسٹیبلشمنٹ نے حال ہی میں “بیکسفینڈی” نامی دوا کی منظوری دی، جسے آسٹرازینیکا نے ہائی بلڈ پریشر کے علاج کیلئے تیار کیا ہے۔ اس دوا کی منظوری دینے والا متحدہ عرب امارات دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

یہ دوا غیرقابلِ کنٹرول بلند فشارِ خون کی بنیادی وجوہات کو نشانہ بناتے ہوئے “الڈوسٹیرون” ہارمون کی پیداوار کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔

ادارے نے “یورنیفی” نامی دوا کی بھی منظوری دی، جو شدید الرجک ردعمل (اینفی لیکسس) کے ہنگامی علاج کیلئے بغیر سوئی کے استعمال ہونے والا پہلا ایپی نیفرین ناک اسپرے ہے۔ یہ دوا بالغ افراد اور 30 کلوگرام یا اس سے زیادہ وزن رکھنے والے بچوں کیلئے استعمال کی جا سکتی ہے۔

اس منظوری کے ساتھ متحدہ عرب امارات خطے کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ایڈرینالین دوا کے متبادل اس جدید علاج کی منظوری دی۔

دوسری جانب محکمۂ صحت ابوظہبی نے اپنے ذاتی نوعیت کے وزن کم کرنے کے پروگرام کے تحت “فاؤنڈایو” نامی روزانہ استعمال ہونے والی موٹاپے کی دوا متعارف کرائی، جس میں طبی علاج کے ساتھ رویّاتی معاونت اور ڈیجیٹل فالو اپ بھی شامل ہے۔

اس دوا کی منظوری دینے والا متحدہ عرب امارات امریکا کے بعد دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے، جہاں موٹاپے یا وزن سے متعلق بیماریوں میں مبتلا بالغ افراد کیلئے اس علاج کی اجازت دی گئی۔

یہ کامیابیاں جدید طبی خدمات کے شعبے میں یو اے ای کے وسیع تر ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

2025 کے دوران ملک نے کئی جدید علاجوں کی منظوری دی تھی، جن میں “رِلزابرُوٹینیب” برائے مدافعتی پلیٹ لیٹس کی کمی، “ٹولیبرُوٹینیب” برائے پروگریسو ملٹی پل اسکلروسیس، “اِٹویسما” جین تھراپی برائے اسپائنل مسکولر ایٹروفی، اور “کاسگیوی” برائے سِکل سیل بیماری شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات امریکا سے باہر پہلا ملک بھی بنا جہاں “ٹریمفیا” دوا السرٹیو کولائٹس اور کرونز بیماری کے علاج کیلئے متعارف کرائی گئی۔

صحت کے شعبے میں یو اے ای کی قیادت کووڈ-19 وبا کے دوران بھی نمایاں رہی، جب ملک نے مونوکلونل اینٹی باڈی علاج کے ہنگامی استعمال کی منظوری دینے والا پہلا ملک ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹیم سیل پر مبنی معاون علاج بھی تیار کیے۔

اعصابی امراض کے شعبے میں یو اے ای “اڈوہیلم” نامی دوا کی منظوری دینے والا دنیا کا دوسرا ملک بھی بنا، جو الزائمر کے ابتدائی مرحلے کے علاج کیلئے استعمال ہوتی ہے۔

ملک نے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور کینسر کے علاج کیلئے جدید امیونو تھراپی میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے، جن میں انجینیئرڈ ٹی-سیلز پر مبنی علاج شامل ہیں جو کینسر کے خلیات کو براہِ راست نشانہ بناتے ہیں۔

یہ تمام پیش رفت متحدہ عرب امارات کو جدید طبی سہولیات، اختراعی علاج اور صحت کے شعبے میں عالمی قیادت کے مرکز کے طور پر مزید مستحکم کر رہی ہیں۔