شیخ عبداللہ بن زاید اور برطانوی وزیرِ خارجہ کے درمیان علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال

لندن، 18 مئی، 2026 (وام) -- نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کی سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور، رائٹ یوویٹ کوپر سے ملاقات کی۔

یہ ملاقات عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے لندن کے ورکنگ دورے کے دوران ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور متحدہ عرب امارات میں شہری مقامات اور تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے والے بلااشتعال ایرانی دہشت گرد حملوں کے اثرات پر تبادلۂ خیال کیا۔

دونوں جانب سے ان دہشت گرد حملوں کے علاقائی امن و استحکام، بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ اور عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام پر سنگین اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

ملاقات میں اہم بحری راہداریوں کے تحفظ اور عالمی تجارتی سلامتی کو مضبوط بنانے کیلئے بین الاقوامی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

گفتگو میں الظفرہ ریجن میں واقع براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ کے اندرونی حفاظتی حصار سے باہر ایک برقی جنریٹر میں ڈرون حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے واقعے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں کوئی جانی نقصان یا تابکاری تحفظ پر اثرات رپورٹ نہیں ہوئے۔

یوویٹ کوپر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ برطانیہ کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان دہشت گرد حملوں کی مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا۔

اس موقع پر عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے یو اے ای کے حق میں برطانیہ کے حمایتی مؤقف کو سراہتے ہوئے دونوں دوست ممالک کے تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کی گہرائی اور مختلف شعبوں میں ان کے مسلسل فروغ کی تعریف کی۔

دونوں وزراء نے خطے میں امن و استحکام کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

ملاقات میں متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے درمیان گہرے اسٹریٹجک تعلقات اور باہمی مفادات، خوشحالی اور عوامی فلاح کیلئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ملاقات میں وزیرِ مملکت لانا زکی نسیبہ، وزیرِ مملکت سعید مبارک الہاجری، اور برطانیہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر منصور ابوالہول بھی شریک تھے۔