آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی غذائی بحران کا سبب بن سکتی ہے: ایف اے او

روم، 21 مئی، 2026 (وام) -- اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے خوراک و زراعت تنظیم (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی زرعی و غذائی نظام کیلئے ایک بڑے ساختی بحران کو جنم دے سکتی ہے، جو آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران خوراک کی عالمی قیمتوں میں شدید اضافے پر منتج ہو سکتا ہے۔

ایف اے او نے اس ممکنہ بحران سے بچاؤ کیلئے متبادل تجارتی راستے قائم کرنے، برآمدی پابندیوں کے مؤثر انتظام، انسانی امداد کی ترسیل کو یقینی بنانے، اور بڑھتی ٹرانسپورٹ لاگت سے نمٹنے کیلئے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔

تنظیم نے زور دیا کہ بروقت اور پیشگی اقدامات کیلئے دستیاب وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے، اور اس وقت کسانوں اور حکومتوں کی جانب سے کھاد کے استعمال، درآمدات اور مالیاتی فیصلوں سے طے ہوگا کہ آیا یہ بحران شدت اختیار کرے گا یا نہیں۔

ایف اے او کے مطابق یہ بحران مختلف مراحل میں اثر انداز ہوگا، جس کے نتیجے میں توانائی، کھاد، بیج، زرعی پیداوار اور اجناس کی قیمتیں متاثر ہوں گی، اور بالآخر خوراک کی مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

تنظیم نے خبردار کیا کہ 'ایل نینو' موسمی مظہر کے آغاز سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کے باعث متعدد خطوں میں خشک سالی، بارشوں کے نظام میں خلل اور درجہ حرارت کے معمولات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔