ابوظہبی، 21 مئی، 2026 (وام) -- وزیر معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کھلی معیشت، تسلسل اور عالمی تبدیلیوں سے ہم آہنگی پر مبنی اقتصادی ماڈل کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معیشت نے جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور علاقائی اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنی مسابقت اور استحکام برقرار رکھنے کی صلاحیت ثابت کی ہے۔
اکانومی مڈل ایسٹ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اپنی معیشت صرف خوشحالی کے ادوار کے لیے نہیں بنائی بلکہ اسے ہر قسم کے حالات میں مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔
عبداللہ بن طوق نے کہا کہ موجودہ دنیا غیر یقینی صورتحال اور تقسیم کا شکار ہے، ایسے ماحول میں کامیابی انہی معیشتوں کو حاصل ہوگی جو کھلی، قابل اعتماد اور مستقل بنیادوں پر مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ خطہ اس وقت ایک غیر معمولی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں کے شدید ترین تنازعات دیکھنے میں آئے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں سب سے پہلا امتحان سلامتی، دوسرا تسلسل اور تیسرا اعتماد ہوتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ متحدہ عرب امارات کا بنیادی معاشی پیغام یہی ہے کہ یہ ایک کھلا ملک ہے جو مؤثر انداز میں کام کرتا ہے اور سرمایہ کاری و کاروبار کے لیے قابل اعتماد معاشی ماحول فراہم کرتا ہے۔
وزیر معیشت نے بتایا کہ 2021 سے 2025 کے دوران ملک کی اوسط سالانہ اقتصادی شرح نمو تقریباً 5 فیصد رہی، جبکہ غیر تیل شعبے کی شرح نمو 6.2 فیصد تک پہنچ گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت غیر تیل شعبے قومی مجموعی پیداوار میں 77 فیصد سے زائد حصہ ڈال رہے ہیں، جبکہ 2025 میں ملک کی غیر تیل غیر ملکی تجارت 3.8 ٹریلین درہم سے تجاوز کر گئی۔ اسی طرح غیر تیل برآمدات 813 ارب درہم تک پہنچ گئیں، جو ریکارڈ سطح ہے۔
عبداللہ بن طوق نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں اقتصادی تنوع اب صرف ایک خواہش نہیں بلکہ قومی معیشت کے ڈھانچے کا نمایاں حصہ بن چکا ہے۔