خلیجی ممالک میں زیرِ زمین پانی کے استعمال میں 3 فیصد کمی، قابلِ تجدید آبی وسائل کا حصہ 25.5 فیصد تک پہنچ گیا

مسقط، 31 مئی، 2026 (وام) -- خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے شماریاتی مرکز (GCC-Stat) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق خلیجی ممالک میں گزشتہ نو برس کے دوران زیرِ زمین پانی کے سالانہ استعمال میں 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2024 میں قابلِ تجدید آبی وسائل کا مجموعی آبی وسائل میں حصہ بڑھ کر 25.5 فیصد تک پہنچ گیا۔

مرکز کے مطابق یہ پیش رفت پائیدار آبی وسائل کے انتظام سے متعلق پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاس ہے، کیونکہ خلیجی ممالک مستقبل کی نسلوں کے لیے آبی تحفظ یقینی بنانے کے مقصد سے زیرِ زمین پانی پر انحصار کم کرنے اور قابلِ تجدید آبی وسائل کا حصہ بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

جی سی سی شماریاتی مرکز نے کہا کہ یہ تبدیلی پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خلیجی ممالک کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس ضمن میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبوں میں توسیع، صاف شدہ پانی کے دوبارہ استعمال اور پانی کے انتظام و بچت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

مرکز کے مطابق مجموعی آبی وسائل میں قابلِ تجدید ذرائع کے بڑھتے ہوئے حصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک آبی وسائل کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور زیرِ زمین ذخائر پر دباؤ کم کرنے کی سمت گامزن ہیں، جس سے پائیدار ترقیاتی منصوبوں کو تقویت ملے گی اور آنے والے برسوں میں خطے کے آبی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔