ابوظہبی، 4 جون، 2026 (وام) -- جمعرات کو ایشیائی منڈیوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران عالمی اجناس کی منڈیوں میں سرمایہ کاری کا رجحان تبدیل ہوتا نظر آیا، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکی ڈالر کی کمزوری کے باعث سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کی صبح معمولی کمی دیکھی گئی، جس سے گزشتہ کاروباری سیشن میں ہونے والے نمایاں اضافے کا کچھ حصہ واپس ہو گیا۔ برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 67 سینٹ، یا 0.69 فیصد کمی کے ساتھ 97.14 امریکی ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 62 سینٹ، یا 0.65 فیصد کمی کے بعد 95.40 امریکی ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
توانائی کی قیمتوں میں اس کمی اور امریکی ڈالر کی کمزور ہوتی ہوئی رفتار نے محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے اثاثوں کی طلب کو سہارا دیا۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,450.16 امریکی ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ اگست میں ترسیل کے لیے امریکی سونے کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 0.2 فیصد اضافے کے بعد 4,477 امریکی ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔ اسپاٹ چاندی کی قیمت 0.8 فیصد بڑھ کر 73.26 امریکی ڈالر فی اونس ہو گئی، جبکہ پلاٹینم 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,863.25 امریکی ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔ پیلاڈیم کی قیمت میں بھی 0.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1,307.67 امریکی ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں ابتدائی کمی کی بنیادی وجہ بدھ کے روز کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع حاصل کرنے کی سرگرمیاں تھیں۔ اس کے علاوہ خلیج عرب میں کشیدگی میں عارضی کمی نے بھی منڈی کو تکنیکی سطح پر خود کو متوازن کرنے کا موقع فراہم کیا۔