علاقائی چیلنجز کے باوجود متحدہ عرب امارات جائیداد میں سرمایہ کاری کے لیے دنیا کا پسندیدہ مرکز قرار

دبئی، 4 جون، 2026 (وام) -- ادارہ 'ارادہ' کی جانب سے کرائے گئے ایک نئے عالمی سروے کے مطابق حالیہ علاقائی چیلنجز کے باوجود متحدہ عرب امارات جائیداد میں سرمایہ کاری کے لیے دنیا کے سب سے پرکشش مرکز میں شامل ہے۔

امریکی ادارے "پینٹا گروپ" کی جانب سے تیار کردہ "یو اے ای پراپرٹی انویسٹمنٹ انڈیکس" میں متحدہ عرب امارات کو سرمایہ کاری کے لیے سرفہرست قرار دیا گیا۔ سروے کے مطابق 56 فیصد عالمی سرمایہ کاروں نے یو اے ای کی جائیداد مارکیٹ میں سنجیدہ دلچسپی ظاہر کی، جو سروے میں شامل تمام ممالک سے زیادہ ہے۔ اس فہرست میں امریکہ 54 فیصد، برطانیہ 41 فیصد، فرانس 28 فیصد اور اسپین 27 فیصد کے ساتھ بعد میں رہے۔

یکم اپریل سے 23 اپریل کے دوران 12 اہم عالمی منڈیوں میں کیے گئے اس سروے میں 689 تجربہ کار جائیداد سرمایہ کاروں کی آراء شامل کی گئیں۔ یہ تحقیق متحدہ عرب امارات کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے بارے میں بین الاقوامی خریداروں کے رجحانات کا جائزہ لینے والی پہلی بڑی تحقیق قرار دی جا رہی ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق متحدہ عرب امارات کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں دستیاب مواقع سے واقفیت کی شرح 51 فیصد رہی، جو برطانیہ اور امریکہ کے برابر ہے، جہاں یہ شرح بالترتیب 51 اور 53 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

قریبی منڈیوں کے سرمایہ کاروں میں یو اے ای کی کشش نمایاں رہی، جہاں 91 فیصد بھارتی، 92 فیصد مصری اور 85 فیصد سعودی سرمایہ کاروں نے متحدہ عرب امارات کو اپنی اولین تین پسندیدہ سرمایہ کاری کی منازل میں شامل کیا۔

یورپی سرمایہ کاروں میں بھی یو اے ای کو اپنے ملک سے باہر سرمایہ کاری کے لیے اولین ترجیح قرار دیا گیا۔ 63 فیصد فرانسیسی، 60 فیصد جرمن اور 57 فیصد سوئس سرمایہ کاروں نے یو اے ای کو اپنی پسندیدہ منزل قرار دیا۔

عالمی سطح پر 38 فیصد سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ منافع کی صلاحیت سرمایہ کاری کا سب سے اہم محرک رہی۔ آسٹریلیا کے 57 فیصد، اسپین کے 56 فیصد اور برطانیہ کے 41 فیصد سرمایہ کاروں نے منافع کے امکانات کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔

چینی سرمایہ کاروں میں 65 فیصد اور جرمن سرمایہ کاروں میں 58 فیصد نے سلامتی اور استحکام کو سب سے اہم عنصر قرار دیا۔ سروے کے مطابق متحدہ عرب امارات کا مضبوط ضابطہ جاتی نظام، سیاسی استحکام اور شفاف جائیداد قوانین اسے دنیا کے قابلِ اعتماد ترین سرمایہ کاری ماحول میں شامل کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر 34 فیصد شرکاء نے خریداری اور ملکیت کے آسان طریقہ کار کو یو اے ای کی اہم خصوصیت قرار دیا، جبکہ یہ شرح سعودی سرمایہ کاروں میں 57 فیصد اور مصری سرمایہ کاروں میں 41 فیصد رہی، جو ملک کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

اس موقع پر ارادہ کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد الخوشیبی نے کہا کہ سروے کے نتائج اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں جو کمپنی نے اپنی فروخت میں بھی دیکھا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ چیلنجز کے باوجود بین الاقوامی سرمایہ کار یو اے ای کی مضبوط ضابطہ جاتی بنیادوں، بہتر کارکردگی کے ریکارڈ اور مستحکم اقتصادی بنیادوں کو تسلیم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی عالمی سرمایہ کاری مرکز کے طور پر کامیابی کا راز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیزی سے خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ہے، خواہ وہ عالمی مالیاتی بحران ہو یا وبائی مرض۔

سروے کے مجموعی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات منافع، استحکام، ٹیکس کی مؤثریت اور آسان رسائی جیسے اہم عوامل میں عالمی سرمایہ کاروں کی ترجیحات پر پورا اترتا ہے۔

یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات نے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں ریکارڈ سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جن میں 34 ارب درہم مالیت کی دبئی میٹرو گولڈ لائن، دنیا کا پہلا تجارتی فضائی ٹیکسی نیٹ ورک اور 6 ارب درہم کا چوتھا وفاقی کوریڈور منصوبہ شامل ہیں، جن کا مقصد مختلف امارات کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانا اور ٹریفک کے دباؤ میں کمی لانا ہے۔

ارادہ، جس کے عالمی منصوبوں کا حجم 130 ارب درہم سے تجاوز کر چکا ہے، کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق نہ صرف متحدہ عرب امارات کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی مضبوطی کی توثیق کرتی ہے بلکہ کمپنی کی ان اعلیٰ صلاحیت رکھنے والی عالمی منڈیوں میں توسیع کی حکمت عملی کو بھی درست ثابت کرتی ہے۔