عالمی یومِ ماحولیات قدرتی وسائل کے تحفظ اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کی تجدید کا موقع ہے: ڈاکٹر شیخہ سالم الظاہری

ابوظہبی، 4 جون، 2026 (وام) -- ماحولیات ایجنسی ابوظہبی (ای اے ڈی) کی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر شیخہ سالم الظاہری کے مطابق عالمی یومِ ماحولیات 2026 قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے عزم کی تجدید کا ایک اہم موقع ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے میں ماحولیاتی نظام کی مضبوطی کو بڑھانے کی ضرورت بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ کوشش متحدہ عرب امارات کے وژن اور پائیدار ترقی کے عزم سے ہم آہنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال عالمی یومِ ماحولیات "قدرت سے تحریک، ماحول کے لیے، ہمارے مستقبل کے لیے" کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ ماحولیات ایجنسی ابوظہبی گزشتہ تین دہائیوں سے سائنسی تحقیق اور جدت پر مبنی ماحولیاتی پروگراموں اور منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی وسائل کے انتظام کو مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ ابوظہبی میں موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے نئے حل بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر شیخہ سالم الظاہری نے کہا کہ ماحولیات کے شعبے کے لیے ابوظہبی موسمیاتی تبدیلی موافقتی منصوبہ 2025 تا 2050 کا اجراء، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کے تحت زیرزمین پانی، مٹی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر توجہ دی جا رہی ہے، جو آبی تحفظ، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں 2050 تک کے لیے 142 موافقتی اقدامات شامل ہیں، جن میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران 86 منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایجنسی نے متعدد نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں 35 برس بعد عربی کیراکل (صحرائی جنگلی بلی) کی واپسی کی دستاویزی تصدیق، 700 سے زائد مقامات کی نگرانی کے لیے اسمارٹ ٹیکنالوجی اور ڈرونز کا استعمال، اور ابوظبی کے پہلے زیرزمین پانی کے اٹلس کی تیاری شامل ہے، جس میں ایک لاکھ 18 ہزار سے زائد کنوؤں کا ریکارڈ محفوظ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر شیخہ سالم الظاہری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ماحولیات ایجنسی ابوظہبی مختلف شعبوں کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی اقدامات میں ابوظبی کی قیادت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور قدرتی وسائل کی پائیداری اور معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔