جوہانسبرگ، 8 جون، 2026 (وام) -- جنوبی افریقہ کے محکمہ تجارت، صنعت و مسابقت میں سرمایہ کاری کے فروغ کے چیف ڈائریکٹر لیسٹر بوآہ کے مطابق متحدہ عرب امارات افریقہ کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے، جبکہ دبئی کا عالمی تجارتی اور سرمایہ کاری مرکز کے طور پر ابھرنا جنوبی افریقی کاروباری اداروں کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
جوہانسبرگ میں منعقدہ دبئی۔جنوبی افریقہ بزنس فورم کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے بوآہ نے دبئی چیمبرز کی جانب سے جنوبی افریقہ کے لیے ترتیب دیے گئے تجارتی مشن کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات اور شراکت داری کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات جنوبی افریقہ کے اہم اقتصادی اور سرمایہ کاری شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات طویل المدتی اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کے تحت مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔
بوآہ کے مطابق جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات کو تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ایک کلیدی شراکت دار سمجھتا ہے، جو نہ صرف دوطرفہ سطح پر بلکہ افریقہ کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے والے اہم عالمی دروازے کے طور پر بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سرکاری حکام اور کاروباری رہنماؤں کے باہمی دوروں کے ذریعے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، جو اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔
لیسٹر بوآہ نے بتایا کہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی کرتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی متحدہ عرب امارات کو برآمدات تقریباً 2.68 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو یو اے ای کی منڈیوں تک بہتر رسائی اور دوطرفہ تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کا مظہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات جنوبی افریقہ میں نمایاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں میں شامل ہے، جہاں اماراتی سرمایہ کاروں نے تقریباً 22.96 ارب امریکی ڈالر مالیت کے 33 سرمایہ کاری منصوبے شروع کیے ہیں، جن سے 5,500 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ ان کے بقول یہ جنوبی افریقی مارکیٹ پر اماراتی کاروباری برادری کے اعتماد کا ثبوت ہے۔
بوآہ نے کہا کہ ان کا محکمہ جنوبی افریقہ میں مزید اماراتی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے، بالخصوص ایسے پیداواری شعبوں میں جو اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ہوں۔ انہوں نے جدید صنعت سازی، قابلِ تجدید توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، لاجسٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کو تعاون کے لیے امید افزا شعبے قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف تجارت اور سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری پر بھی مشتمل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ برسوں میں یہ تعاون مزید شعبوں اور اقتصادی مواقع تک وسعت اختیار کرے گا۔