اماراتی کھلاڑی عالمی سطح پر کامیابیوں کی نئی مثالیں قائم کر رہے ہیں: وام رپورٹ

ابوظہبی، 9 جون، 2026 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے انفرادی کھیلوں کے کھلاڑی عالمی سطح پر مسلسل کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی اعزازات صرف صلاحیت ہی نہیں بلکہ برسوں کی محنت، نظم و ضبط اور قربانیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

وام کی ہفتہ وار رپورٹ میں چار ایسے اماراتی چیمپئنز کے سفر کو اجاگر کیا گیا ہے جو نئی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

قومی سنوکر ٹیم کے کپتان محمد شہاب نے 1993 میں بین الاقوامی میدان میں قدم رکھنے کے بعد تین دہائیوں پر محیط شاندار کیریئر بنایا ہے۔ وہ اب تک 130 تمغے جیت چکے ہیں جن میں 74 طلائی تمغے شامل ہیں۔ محمد شہاب کا ہدف 100 طلائی تمغوں کا سنگ میل عبور کرنا ہے۔ ان کے مطابق سب سے بڑا چیلنج بدلتے ہوئے مقابلے کے ماحول میں اپنی بہترین کارکردگی برقرار رکھنا ہے۔ وہ ذہنی یکسوئی اور روزانہ سخت مشق کو اپنی کامیابی کا راز قرار دیتے ہیں۔

ٹیبل ٹینس کے میدان میں متحدہ عرب امارات ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے بورڈ رکن راشد عبدالحمید نے کھیل اور تعلیم دونوں شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے 150 تمغے جیتے جن میں 110 طلائی تمغے شامل ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ تخصصی پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کرنا تھا۔ ان کی ڈاکٹریٹ تحقیق متحدہ عرب امارات میں نوجوان کھیلوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر مرکوز ہے تاکہ مستقبل کے چیمپئنز تیار کیے جا سکیں۔

جوجٹسو کے ابھرتے ہوئے عالمی ستارے عمر السویدی نے عالمی اور ایشیائی چیمپئن شپ کے اعزازات حاصل کیے ہیں اور اپنے مقابلوں میں کسی حریف کو ایک بھی پوائنٹ حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا۔ انہوں نے ابتدا میں محض دلچسپی کے باعث اس کھیل کا آغاز کیا، تاہم ابوظہبی میں ایک برازیلی حریف کے خلاف اہم کامیابی نے ان کے اعتماد کو نئی بلندی دی۔ بلیک بیلٹ حاصل کرنے کے لیے انہوں نے کئی برس تک روزانہ اوسطاً چار گھنٹے سخت تربیت کی، جبکہ اماراتی عالمی چیمپئن فیصل الکتبی کی رہنمائی نے بھی ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

قومی سائیکلنگ ٹیم کے کپتان احمد المنصوری گزشتہ 20 برس سے اعلیٰ سطح کے مقابلوں میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ تربیتی کیمپوں کے باعث وہ سال میں چھ ماہ تک اپنے اہل خانہ سے دور رہتے ہیں۔ ان کی مستقل محنت کا نتیجہ 2022 کے اسلامی یکجہتی کھیلوں میں متحدہ عرب امارات کے لیے سائیکلنگ کا پہلا طلائی تمغہ تھا۔ اس کے علاوہ وہ متعدد ایشیائی اعزازات بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔ خاندانی حمایت کے ساتھ احمد المنصوری اس وقت لاس اینجلس 2028 اولمپک کھیلوں کے لیے کوالیفائی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔